کراچی، ہم قانون اور عدالت کا احترام کرنے والے ہیں، آئی جی سندھ میرے ماتحت کے بھی ماتحت ہیں،وزیر اخلہ سندھ
وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ اے ڈی خواجہ کے آنے سے پہلے
بھی سندھ میں امن و امان کی صورت حال بہتر تھی،سندھ میں میرٹ پر بھرتیاں کی
گئیں، سندھ پولیس میری یا کسی اے ڈی خواجہ کی محتاج نہیں ہے، ا س آئی جی
پر کئی تماشے چلے، افسران لگتے رہتے ہیں ہٹتے رہتے ہیں، ہم قانون اور عدالت
کا احترام کرنے والے ہیں، آئی جی سندھ میرے ماتحت کے بھی ماتحت ہیں اور وہ
پولیس کے معاملات مجھ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں، انہوں نے بہت بچکانہ حرکت کی
ہے۔ صبح سے 20گریڈ کے ایک افسر کے لئے وضاحتیں دے رہا ہوں،میرے پاس20گریڈ
کے 30افسران ہیں۔ہر حکومت کا اختیار ہے کہ اس افسر کیساتھ چل سکتی ہے یا
نہیں،سندھ میں آئی جی کا ہٹنا یا نہ ہٹنا عدالتی معاملہ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ انور سیال نے کہا کہ کراچی
آپریشن آصف زرداری،بلاول بھٹو زرداری نے اور فوج نے شروع کیا تھا،سندھ میں
امن و امان کے لئے ہر ممکن وسائل استعمال کیے جائیں گے،آئی جی سندھ اے ڈی
خواجہ کے ہٹنے یا نہ ہٹنے سے انورمجید کا کوئی تعلق نہیں،ہر حکومت کا
اختیار ہے کہ کسی افسر کیساتھ چل سکتی ہے یا نہیں۔ حکومت کے پاس اختیار ہے
کہ وہ کسی بھی افسر کو ہٹا دے، اے ڈی خواجہ کے آنے سے پہلے ایپکس میں کہا
تھا ملازمتیں میرٹ پر ہوں گی، میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آئی جی کو کیوں
ہیرو بنایا جا رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ سندھ نے رمضان المبارک کے دوران سندھ پولیس کا
سیکورٹی پلان بھی بتایا ان کا کہنا تھا رمضان میں سیکورٹی کے خصوصی
انتظامات کئے جائیں گے، پولیس افسران عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کام
کریں گے، افطاری سے تراویح تک تمام پولیس افسران سڑکوں پر ہوں گے، کراچی
کے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ایڈیشنل آئی جی اور میں
خود سیکورٹی کی صورت حال چیک کریں گے، 15رمضان کے بعد بازاروں میں نفری
بڑھا دیں گے، سندھ کے تمام اضلاع میں پولیس کی نفری تعینات کی جائے گی،
حکومت کی کوشش ہے کہ ہر دن امن و امان سے گزرے، رمضان میں ٹریفک کا نظام
بھی بہتر بنایا جائے گا۔