اسلام آباد،کسان اتحاد کا مظاہرہ،پولیس کی شیلنگ
ڈی چوک کے قریب کسان اتحاد کازراعت پر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا ۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑ پ کے بعد کسان اتحاد کے متعددمظاہرین
گرفتار کر لئے گئے، جنہیں تھانوں میں منتقل کرنے کیلیے گاڑیاں کم پڑگئیں۔
پاکستان کسان اتحاد کے مظاہرے کے دوران ڈی چوک میدان جنگ بن گیا ،مظاہرین
کی جانب سے پتھراؤ اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ،واٹر کینن اور
لاٹھیوں کااستعمال کیا گیا، ڈی ایس پی سمیت 6اہل کار اور متعدد مظاہرین
زخمی ہوگئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کسان دشمن بجٹ ہمیں کسی صورت قبول نہیں،زراعت پر
ٹیکسز ختم کرنے، سبسڈی اور کسان پیکیج پر عملدرآمد کا مطالبہ کررہے
تھے،اسحاق ڈار ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو سڑکوں پر ماردیں۔
کسانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجٹ میں تجویزیں پیش کردی جاتی ہیں، مگر عمل
نہیں ہوتا،کسانوں کے لیے پالیسیاں بنانے والوں کو زراعت کاکچھ پتا ہی نہیں
ہے۔
اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پاکستان کسان اتحاد سے اظہار یکجہتی کے لئے دھرنے
میں پہنچے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے حکومت کو
کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
خورشید شاہ نے کہا کہ کسان ہماری معیشت کو بہتر کرتے ہیں،غریب محنت کرتا ہے
اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر مزے لیتے ہیں، پاکستان کے ستر فیصد لوگ زراعت
پرانحصار کرتے ہیں، آج بجٹ پیش کیا جا رہا ہے اور کسان سڑکوں پر ہیں، ہر
کسان کے گھر میں آگ جل رہی ہے،ہمسایہ ملکوں میں کسانوں کو پیکج دیا جاتا ہے
جبکہ ا یوان میں بیٹھے لوگوں کومزدوروں کے گھر کی آگ کا احساس تک نہیں ہے۔
خورشید شاہ نے مزید کہا کہ حکمرانوں آنکھیں کھولو،ورنہ معیشت ختم ہوجائے گی، پنجاب حکومت کے پاس کسانوں کے 30 ارب روپے پڑے ہوئے ہیں۔
کسان اتحاد کے مظاہرے کی وجہ سے میٹرو بس سروس بھی معطل ہو گئی ہے،میٹرو
سروس کو صدر سے بند کر دیا گیا ہے جبکہ بسوں کو اسٹیشنز پر ہی روک لیا گیا
ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔