کوئٹہ،رمضان المبارک میں لوڈ شیڈنگ اور شدید گرمی کے سبب برف کی مانگ می اضافہ
ماہ صیام میں اہل ایمان افطار میں ٹھنڈے مشروبات کے لئے برف کا خو ب
استعمال کر رہے ہیں ،جس کے سبب برف کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے ،اس مانگ
کو پورا کرنے کے لئے برف ڈپو دن رات کام کررہے ہیں ۔
ما رمضان میں افطار کا دسترخوان ٹھنڈے مشروبات کے بنا نا مکمل ہوتا ہے
مشروبات اور برف کا یہ ساتھ اہل ایمان کو افطار میں روزے کی شدت سے راحت کا
احساس دلاتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ان دنوں برف ڈپو میں برف بنانے کا کام
زوروں پر ہے برف کے کارخانے میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آج کل وہ دن
رات برف تیار کرنے میں مصروف ہیں تاکہ شہریوں کی مانگ کو پوراکر سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک جانب تو رمضان میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا
اعلان کرتی ہے مگر دوسری جانب اس اعلان پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب نہیں
ہوتی جسکی وجہ سے انہیں بازار سے برف خریدنا پڑتی ہے اگر ان برف کے
کارخانوں سے بھی انہیں برف حاصل نہ ہو تو وہ کہاں جائیں ۔
ماہ صیام میں یہ کارخانے عوام کو برف کی فراہمی کا ایک واحد ذریعہ رہ گئے
ہیں کیونکہ حکمرانوں کے دعوے تو عوام کو تاحال لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نکالنے
میں ناکام نظر آ رہے ہیں ۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری
احمداللہ نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ بہت زیادہ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے گھروں میں
بھی فریج میں برف نہیں جم پا رہی ہے۔
برف کا کاروبار کرنے والے خاران کے رہائشی شخص نے کہا کہ خاران میں بجلی نہیں جبکہ کوئٹہ سے برف لے جاکر خاران میں فروخت کرتے ہیں۔