کوئٹہ،ماہ صیام میں بھی ناجائز منافع خوری عروج پر
رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ نے تو امت کے لئے رحمت کا سبب بنایا ہے مگر
گراں فروشوں اور ناجائز منافع خوروں اسے زحمت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں ان دنوں پھلوں نے شہریوں سے ایسے منہ موڑ رکھا ہے جیسے ووٹ لینے
کے بعد اہل اقتدار رویہ بدل لیتے ہیں کسی سیاست دان کی طرح ہی ان پھلوں تک
پہنچنے کے لئے مہنگے ریٹس کے سیکورٹی حصار توڑنا کسی غریب کے بس کی بات
نہیں رہا اب میاں آم کی بات کرلیں ویسے تو یہ عام ہیں مگرانکاریٹ بہت خاص
ہے اگر آپکی جیب میں250روپے ہیں تو یہ آپ سے ہم کلام ہونگے ورنہ یہاں سے
چلتے بنئے۔
ارے یہ تو ہمارے دوست تربوز صاحب ہیں رمضان سے پہلے تو یہ خود ہمیں بلا کر
سلام دعا کر لیتے تھے مگر آج تو یہ بھی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دے رہے
کیونکہ یہ بھئی50ورپے فی کلو میں گفت شنیدکریں گیں آڑو بھائی تو ہیں ابھی
نئے نئے مہمان تو نخرہ انکا حق ہے اسی لئے 150روپے فی کلو میں یہ دستر خوان
کی زینت بن سکتے ہیں
کیلے نے تو اپنا ہی اتحاد بنا کر ریٹ 200روپے فکس کر لیا ہے جبکہ خربوزہ
کسی اپوزیشن رکن کی طرح عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے 30روپے فی کلو
پر انے ریت پر فروخت ہو رہا ہے۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگوکرتے ہوئے ایک شہری نے کہا
کہ پھل خریدنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی،کم آدمی والے کے لئے
حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔
ایک پھل فروش نے کہا کہ خربوزہ تیس روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں۔
ایک اور پھل فروش خالق دادنے کہا کہ مارکیٹ میں سب سے سستی چیزتربوز اور خربوزہ ہے ۔