Jun 05, 2017 12:41 pm
views : 730
Location : CM Secretariat
Lahore- CM Punjab Chairs Meeting about Clean Water
لاہور،وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت تعطیل کے باوجود صاف پانی کے متعلق اجلاس
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ پینے کے صاف پانی کے پروگرام کا آغاز جنوبی
پنجاب سے کیا جا رہا ہے جبکہ بہاولپور ریجن میں 116 واٹر فلٹریشن پلانٹس
شہریوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہے ہیں اور اب پینے کے صاف پانی کی
فراہمی کے پروگرام کو جنوبی پنجاب کی تحصیلوں سے شروع کیا جا رہاہے اور اس
پروگرام کو انتہائی تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس پروگرام پر عملدرآمد کیلئے کسی
قسم کی سمری میرے پاس نہ بھجوائی جائے کیونکہ پنجاب حکومت نے اس پروگرام
پر عملدرآمد کیلئے 2 کمپنیاں تشکیل دی ہیں اوریہ کمپنیاں خود فیصلے کریں ،
ان پر عمل کریں اور نتائج دیں۔ انہو ں نے کہا کہ بعض افسروں کی مجرمانہ
غفلت اور پیشہ ورانہ بددیانتی کے باعث مفاد عامہ کے اس عظیم منصوبے میں
تاخیر ہوئی لیکن پنجاب حکومت کے بروقت اقدام کے باعث نہ صرف اس پیشہ ورانہ
بددیانتی کو پکڑا گیا بلکہ متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی بھی کی جا رہی
ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اب ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے ہوئے درست سمت کی جانب
بڑھ رہے ہیں،پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے بارے میں موثر
آگاہی مہم چلائی جائے، اس پروگرام کی کامیابی کیلئے کمیونٹی کی شرکت بھی
بہت ضروری ہے، غیر فعال دیہی واٹر سپلائی سکیموں کو جلد فعال کیا جائے اور
ان سکیموں کی مانیٹرنگ کا موثر نظام بھی وضع کیا جائے کیونکہ ان سکیموں کے
فعال ہونے سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچے گا۔
اپریل 2018 ء تک مزید 800 غیر فعال واٹر سکیموں کو بحال کرنے کی ہدایت کرتے
ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس ضمن میں ہر طرح کے وسائل مہیا کئے جائیں گے،
اجلاس کے دوران واساز کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہار گیا گیا اور
واساز میں اصلاحات اور تنظیم نو کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ نے متعلقہ
حکام کو ہدایت کی کہ اس ضمن میں موثر پلان بنا کر فی الفور عملدرآمد کیا
جائے اور واساز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے بہترین اور باصلاحیت
ہیومن ریسورس کا میرٹ پر انتخاب کیا جائے جبکہ انٹرنل اور ایکسٹرنل آڈٹ کا
نظام متعارف کرایا جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ واساز کو مثالی پیشہ ورانہ ادارہ بنانے کیلئے
فوری اقدامات کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانی کے نمونوں کی
چیکنگ کیلئے ملتان، ڈیرہ غازی خان، لاہور اور راولپنڈی میں قائم 4 واٹر
ٹیسٹنگ لیبز کی اپ گریڈیشن کا کام جلد مکمل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ
پنجاب حکومت نے موبائل واٹر ٹیسٹنگ لیبز بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے
اورابتدائی طور پر 5 موبائل واٹر ٹیسٹنگ لیبز کے ذریعے پانی کے نمونے چیک
کئے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے 36 اضلاع کیلئے موبائل واٹر ٹیسٹنگ لیبز حاصل کرنے کی ہدایت
کرتے ہوئے کہا کہ واٹر ٹیسٹنگ لیبز کا پورا نظام ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی طرح
خودمختار ہونا چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے موبائل واٹر ٹیسٹنگ لیبز کے حوالے سے
شاندار اقدام پر چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات اور سیکرٹری ہاؤسنگ کی تعریف
کی۔انہوں نے کہا کہ ٹیوب ویلوں میں کلورینیشن کے عمل کے ذمہ دار متعلقہ
اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔
اجلا س میں وزیر اعل؛یٰ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پائپ لائنوں کی
حالت کا جائزہ لینے کیلئے سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ صاف پانی
ایک نعمت ہے، آئیے مل کر صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے
دن رات ایک کر دیں، ہمیں اپنی توانائیاں یکجا کرکے اس پروگرام کو تیزی سے
آگے بڑھانا ہے۔
اجلاس میں مینجنگ پارٹنر ڈلیوری ایسوسی ایٹس سر مائیکل باربر، روڈ میپ ٹیم
کے دیگر پارٹنرز، صوبائی وزراء منشاء اللہ بٹ، سید ہارون سلطان بخاری،
معاون خصوصی ملک احمد خان، مشیر عمر سیف، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف
سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، چیئرمین صاف پانی کمپنی نارتھ ایم
این اے میجر (ر) طاہر اقبال، چیئرمین صاف پانی کمپنی ساؤتھ چوہدری عارف
سعید، اعلیٰ حکام، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور ماہرین نے اجلاس میں شرکت
کی۔