پشاور،ڈپٹی سپیکر مہر تاج روغانی کی زیرصدارت کے پی کے اسمبلی کا اجلاس
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر مہر تاج روغانی کی صدارت میں شروع ہوا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کردہ نئے مالی سال کے بجٹ پر بحث
ہوئی,اپوزیشن لیڈر مولونالطف الرحمان نے کہا کہ حکومتی اراکین بجٹ اجلاس کو
غیر سنجیدگی سے لے رہے ہیں،صوبائی حکومت کی جانب سے پچھلے سال بھی خسارے
والا بجٹ پیش کیا گیا، اس سال بھی خسارے اور امکانات والا بجٹ پیش کیا۔
اپوزیشن لیڈڑ نے کہا خوش نما الفاظ کو بجٹ تقریر میں شامل کر کے بجٹ کو
ریلیف دہ نہیں کہا جا سکتا، چار سالوں میں ایک پرائمری سکول بھی فنکشنل
نہیں ہوا،مدارس کے حوالے سے جو بل لایا جا رہا ہے اس کو مسترد کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماشا ہ فرمانبنے کہاکہ بجلی منافع کی مد میں 1500 ارب روپے
وفاق نے روکے ہیں، رہنما پشاور: اگر کہیں پر کرپشن ہو رہی ہے تو اپوزیشن
نشاندہی کرے، پہلے صوبے کا حق حاصل کیا جائے پھر اپوزیشن منصفانہ تقسیم کی
بات کرے،توقع رکھتے ہیں صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے اپوزیشن ساتھ دے گی۔
رہنما ن لیگ اورنگزیب نلوٹھانے کہا خیبر پختونخوا کے عوام احتساب کرنا
صحیح جانتے ہیں، چار سال گزر گئے مگر حکومت نے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا،
جتنے ظالمانہ ٹیکس اس بجٹ میں لگائے گئے اس کی مثال نہیں ملتی،صوبائی بجٹ
کو کشکول بجٹ کہنا غلط ہو گا، درزیوں اور پکوڑوں والوں پر ٹیکس لگا کر
صوبائی حکومت نے عوام کا جینا حرام کر دیا، جو وعدے گزشتہ سال کے بجٹ میں
کئے گئے تھے وہ بھی پورے نہیں ہوئے.