پشاور،اسپیکر کے پی کے اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدار ت کے پی کے اسمبلی کا اجلاس
اسپیکر کے پی کے اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدار ت کے پی کے اسمبلی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں نئے مالی سال کے بجٹ پر بحث کی گئی ۔
رہنما پی پی پی ثناء اللہ نے کہا کہ صوبائی وزیر خزانہ حافظ ہیں نہ عالم،پی
ٹی آئی کی حکومت اچھے کام کر رہی ہے مگر وزیر خزانہ مسائل پیدا کر رہے
ہیں،وزیر خزانہ اگر کرپٹ نہ ہوتے تو خیبر بینک سکینڈل سامنے نہ آتا،مظفر
سید سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس لیا جائے۔
ایجنڈے کی کاپیاں نہ ملنے پر اپوزیشن نے اسمبلی سے واک آوٹ کیاتاہم حکومت
کی جانب سے اپوزیشن کو منا لیا گیا جس پراپوزیشن اجلاس میں واپس آگئی
حکومتی رکن ڈاکٹر حیدرعلی نے کہاکہ وفاق ہمارے صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے ۔
رہنما اے این پی سردار حسین بابک نے کہا کہ نہ بجٹ تیاری میں اپوزیشن کو
ساتھ بٹھایا گیا ، نہ ہی ہم سے کوئی مشورہ مانگا گیا، حکومت کو بجٹ پاس
کرنے میں اتنی جلدی کیوں تھی، ایجنڈے کی کاپیاں نہ ملنا رولز کی خلاف ورزی
ہے ،زیادہ تر ایم پی ایز کمپیوٹرسسٹم پر نہیں سمجھتے لہذا چھاپ شدہ ایجنڈے
کی کاپیا ں فراہم کی جائیں ۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں ڈیجیٹل کمپیوٹرائزسسٹم پر اپوزیشن نے اعتراضات اٹھا دئیے۔
رہنما پی پی پی نگہت اورکزئی نے کہاکہہسپتالوں میں داخل ہونے والے غریب
مریضوں کودوائیاں نہیں ملتی ،پرائیوٹ کلینکس میں ہر قسم کی دوا دستیاب
ہے،صوبائی حکومت کو صحت کے شعبہ پر توجہ دینی ہوگی، خواجہ سراوں کیلئے 20
کروڑ روپے رکھے گئے لیکن تاحال انہیں کچھ نہیں دیا گیا،حکموت ڈاکٹروں کے
تحفظ کے لئے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے،ینگ ڈاکٹرز 20 دن سے سڑکوں پر ہیں
اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔
وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے کہا کہ عمران خان کا کزن نوشیروان برکی ایک
روپیہ تنخواہ بھی نہیں لے رہا،نوشیروان برکی پر الزامات لگانا مناسب نہیں
،انسانی ہمدردی کے تحت وہ خدمات انجام دے رہے ہیں ،ایم ٹی آئی ایکٹ اگر
ٹھیک قانون نہیں تو خامیاں بتائی جائیں ،جلسہ کی تقریر اور بجٹ تقریر میں
فرق ہونا چاہیئے۔
وزیر تعلیم عاطف خان نے کہاکہ پورے صوبے میں 55 ہزارتک اساتذہ بھرتی
کرینگے، 83 ہزار اساتذہ کو ٹریننگ دی جا رہی ہے، 21 لاکھ کرسیا ں کم ہیں
اسکولوں میں ، جبکہ 14 لاکھ فراہم کر دی ہیں ، خیبر پختونخوا میں 1لاکھ
51ہزار بچے پرائیویٹ ا سکولوں سے سرکاری سکولوں میں آئے، تعلیم کے شعبے میں
کافی بہتری آچکی ہے ۔
وزیر صحت شہرام ترکئی نے کہا کہ جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو صحت کا
بجٹ 18 ارب تھا،آج صحت کا بجٹ 66 ارب روپے ہے، جو تبدیلی کا ثبوت ہے،
ہسپتالوں میں مشینری کی تنصیب کیلئے 3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔