پشاور،اسپیکر کے پی کے اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت کے پی کے اسمبلی کا اجلاس
خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔
اسمبلی اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ اور اے این پی پارلیمانی لیڈرسردار حسین بابک کے درمیان نوک جھوک ہوئی۔
سردار بابک نے کہاکہ بجلی کے خالص منافع سے اربوں روپے نکالے جا رہے
ہیں،صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ٹھیکیدار کو 5ارب روپے قرضہ دیا جا رہا
ہے،سوات ایکسپریس وے کے لیے ڈبلیو ایف او کوقرضہ دیا گیا،ایکسپریس وے کی
آمدن بھی 30 سال تک کمپنی کو جائے گی،جس پر وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ
اے این پی بتائے اپنے دورمیں بجلی پیداوار کے کتنے منصوبے شروع کئے،آپ نے
کچھ بویا نہیں تو ہم کیا کاٹیں گے، بجلی پیداور میں سات سے آ ٹھ سال لگتے
ہیں،ایکسپریس وے پر 15 ارب روپے اخراجات آئیں گے،مرمت بھی کمپنی کرے گی۔
: صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان کا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
فاٹاکو فاٹا اصلاحات سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا، فاٹا سے منتخب نمائندے
قانون سازی نہیں کرسکینگے اور نہ ہی منی بل پر بات کرسکیں گے ،فاٹا کے 23
ممبر صرف وزیر اعلی کو منتخب کرنے کے لئے ووٹ ڈال سکیں گے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں فاٹا اصلاحات پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر نظر
آئے اے این پی رہنما سردار بابک نے کہا کہ فاٹا کے معاملے پر مرکزی حکومت
تذبذب کا شکارہے، مرکز فاٹا کے انضمام کے بعد مالی معاملات وزیراعلی کی
بجائے گورنر کے حوالے کرنا چاہتاہے،پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شاہ فرمان نے
کہا مرکزی حکومت اصلاحات کے نام پر خیبرپختونخوا کی آزادی کو سلف کرنا
چاہتی ہے، اصلاحات میں فاٹا کے ایم پی ایز اپنے علاقوں کے لئے قانون سازی
نہیں کرسکیں گے،مرکز فاٹا کے ایم پی ایز کے ذریعے اپنی پسند کا وزیراعلی
لانا چاہتی ہے۔
وزیر اعلی پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ بجٹ کو احسن طریقے سے پیش کیا گیا،سب کو مبارک باد دیتا ہوں،جب ہم
نے حکومت سنبھالی تو لوگ صوبے کو چھوڑ کر جا رہے تھے، ہم نے ایسی پالیسیاں
بنائی کہ امن و امان میں بہتری آئی آرمی اور پولیس کے جوانوں کی قربانیوں
کی بدولت آج خیبر پختونخوا امن کا گہوارا بن چکا ہے،ہمارا صوبہ ترقی کی راہ
پر گامزن ہو چکا ہے ،ہماری حکومت سے پہلے کسی نے نہیں سوچا تھا کے اصلاحات
لائی جائیں،ہماری حکومت نے اداروں کو خود مختار بنایا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ہم نے چار سالوں میں جتنی محنت کی اس کا مقصد
صوبے کو ترقی کے ٹریک پر لانا تھا ، ہم نے سکولوں اور کالجوں کو بہتر بنانے
سمیت دین کی خدمت کیلئے بھی بہت کچھ کیا ،،ہم سیاست دانوں نے اپنے تعلیمی
نظام کو برباد کر دیا ہے،ہماری حکومت میں اساتذہ کے تبادلوں پر پابندی عائد
کردی ہے ،پانچ سال کے دور حکومت میں 45 ہزار اساتذہ کو بھرتی کرینگے،
ہمارا مقصد غریبوں سے دعا لینا ہے۔
پرویز خٹک نے کہاکہ آج فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے 100 فیصد اسپتالوں میں
ڈاکٹروں کی کمی پوری کی،یم ٹی آئی کے نفاذ میں دو سال کا وقت لگا،ڈاکٹروں
نے احتجاج کیا ، سیاستدانوں نے بدنام کیا ، مگر ہم سرخرو ہوئے،ہم نے ڈیلیور
کرنا ہے اس لئے ڈٹ کر جواب بھی دیتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہااگر ہم ہسپتال ٹھیک نہیں کرسکتے تو پھر اسمبلی
میں بیٹھنیکی ضرورت نہیں،پچاس فیصد ڈاکٹر غیر حاضر تھے ،ڈاکٹر اپنی
دکانداری کی وجہ سے پروموشن نہیں لے رہے تھے، ہم نے ڈاکٹروں کی کمی پوری
کرکے انکی تنخواہیں بڑھائی،ہسپتالوں میں گندگی کے ڈھیر تھے،، بڑے ہسپتالوں
کو قانون سازی کے ذریعے بااختیار کیا۔
پرویزخٹک نے مزید کہا کہ اس وقت صوبے میں تین میڈیکل کالجز پر کام شروع ہے،ہم سرکار سے اختیار لیکر عوام کو با اختیار بنا رہے ہیں۔