Jun 16, 2017 12:58 pm
views : 655
Location : Balochistan Assembly
Quetta- Balochistan Assembly Budget Session
کوئٹہ،صوبہ بلوچستا ن کانئے مالی سال 2017۔18 کا325ارب سے زائد کابجٹ پیش کردیا گیا
بلوچستان اسمبلی میں نئے مالی سال 2017۔18 کا 325ارب سے زائد کابجٹ پیش
کردیا گیا، بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کاتخمینہ 86 ارب سے زائد جبکہ غیر
ترقیاتی اخراجات کیلئے 242 ارب سے زائد کابجٹ تجویز کیاگیاہے، بجٹ میں امن
وامان تعلیم صحت ودیگرشعبوں پرخصوصی توجہ دی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی
تنخواؤں اورپنشن میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیاگیاہے جبکہ کم سے کم اجرت 14
ہزار روپے سے بڑھاکر 15 ہزار روپے ماہانہ کردی گئی ہے۔
بلوچستان اسمبلی کااجلاس اسپیکر راحیلہ حمید خان درانی کی زیرصدارت میں
ہوا۔مشیرخزانہ سرداراسلم بزنجو نے مالی سال 2017۔18 کابجٹ پیش کرتے ہوئے
کہاکہ مخلوط حکومت کاپانچواں بجٹ پیش کرنا میرے لئے اعزاز ہے۔ انہوں نے
کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کی قیادت میں بلوچستان ترقی
کی راہ پرگامزن ہے، صوبہ بلوچستان ملک کے 44 فیصد رقبے پر محیط ہے جبکہ
صوبے کی آبادی 95لاکھ سے زائد ہے صوبے میں صنوبر کے سب سے بڑے جنگلات پائے
جاتے ہیں، ہمیں قدرت نے 775 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی سے نوازا ہے، ہمارے
ساحلی علاقے معاشی لحاظ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں، یہاں زیرزمین بے پناہ
معدنی ذخائرموجودہ ہیں جنہیں دریافت کرنے اورانہیں استعمال میں لانے کی
ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ سردار اسلم بزنجو نے کہا ہے کہ ہمارے پاس سونا،چاندی اور
تانبے کے علاوہ قدرتی گیس، تیل اور کوئلے کے وسیع ذخائرہیں، صوبے سے نکلنے
والی گیس نے1952ء سے پورے ملک کی صنعتی و معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا
کیاہے اورآج ایک بار پھر اپنی طویل ساحلی پٹی اور قیمتی قدرتی وسائل کے
باعث یہ علاقہ نہ صرف ملکی معیشت کی ترقی کا زینہ بن رہا ہے بلکہ خطہ میں
تجارتی سرگرمیوں کے اہم مرکز کے طور پر ابھر تادکھائی دے رہا ہے۔
سردار اسلم خان بزنجونے کہا کہ موجودہ بجٹ اِن مقاصد کو پیش نظر رکھ کر
بنایا گیا ہے جن سے عام آدمی کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ آئندہ بجٹ کی خاص
بات صوبے کے وسائل کو ترقی دے کر مجموعی ترقیاتی اہداف کا حصول ہے اور یہی
وہ بنیاد ہے جِس کو پیش نظر رکھ کر یہ بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، ہمارے اِس
تصوّر میں وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی گہری دلچسپی کو بنیادی حیثیت
حاصل ہے کیونکہ صوبے کی ترقی، یہاں کے لوگوں کی خوشحالی اور یہاں اِقتصادی
سرگرمیوں کا فروغ ان کی ترجیحات میں ہمیشہ شامِل رہاہے۔
مشیرخزانہ نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ون روڈ ون بیلٹ کے چینی
وژن کا اہم ترین حصہ ہے جس کے تحت چین اور پاکستان کے درمیان تاریخی رابطوں
کو فروغ دیکر وسط ایشیا تک بڑھایا جانا ہے، ہم اس کلیدی منصوبے پر فخر
محسوس کرتے ہیں جونہ صرف پاکستانی معیشت کو استحکام دینے کا باعث بنے گا
بلکہ ہمار ے صوبے کی بھی تقدیر بدل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک گیم
چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، وزیراعظم محمد نواز شریف تمام سیاسی جماعتوں کے
اکابرین کو منصوبے کے حوالے سے اعتما د میں لے رہے ہیں، ہم منصوبے کے
مخالفین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اس قومی اتفاق کے منصوبے پر نہ بے جا
اعتراض اٹھائیں اور نہ ہی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں کیونکہ
ہم اس طرح کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آنے والے دنوں میں
گوادر پاکستان کی معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔
گوادر کی ترقی کو پاک چین اقتصادی راہد اری میں مرکز ی حیثیت حاصل ہے،
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی حکومت کے تعاون سے گوادر کی ترقی کیلئے
خطیر رقم خر چ کی جائے گی،اس ضمن میں مالی سال 2017۔18 میں بہت سے منصوبے
شروع کئے جائیں گے،ان میں نئے ائر پورٹ کا قیام ،200 بسترکا ہسپتال ،300
میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ اور کھارے پانی کو صاف کرنے کا پلانٹ
شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے بے پناہ فوائد
حاصل ہوں گے، مستقبل میں پاکستان کی زرعی ،تجارتی ترقی اور توانائی کی
ضروریات کو پورا کرنے میں بلوچستان کا بڑا حِصّہ ہوگا، بلوچستان میں بیرونی
سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے بلوچستان اِنویسٹمنٹ بورڈتشکیل دِیا گیا ہے۔ یہ
ایک ناقابل تردید امر ہے کہ مستقبل میں معدِنی پیداوار اور تجارتی و معاشی
سرگرمیوں کا بڑا مرکز بلوچستان ہوگا۔