سرگودھا،جمشید دستی کی ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں پیشی
جمشید دستی کوڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج سرگودھا کی عدالت میں پیش کیا گیا،فاضل جج
نے جمشید دستی کوابتدائی سماعت کے بعدجوڈیشل ریمانڈ پرڈسٹرکٹ جیل سرگودھا
منتقل کرنے کا حکم دے دیا ،آئندہ سماعت تیل جولائی کو انسدسد دہشت گردی کی
عدالت میں ہوگی۔
پولیس حراست میں موجود رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ 6
روز سے بھوکے ہیں جبکہ ان کی بیرک میں چوہے اور بچھو چھوڑے گئے ہیں اور
انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تشدد کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی خراب ہے جبکہ وہ گذشتہ 8
دن سے سو نہیں سکے،رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ان پر جھوٹے مقدمات
قائم کیے گئے ہیں اور انہیں ضمانت ہوجانے کے باوجود عدالت سے گرفتار کیا
گیا۔
جمشید دستی نے کہا کہ ان کی بہن کو تیسرے درجے کا کینسر ہے جبکہ ان کی
والدہ بھی بیمار ہیں، رکن قومی اسمبلی نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور لاہور
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ساری صورت حال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
فاضل جج نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ جمشید دستی کوبہترین کھانا فراہم
کیا جائے اورانکا پورا خیال رکھا جائے سیشن جج نیسیشن جج اکرام سہیل نے
مزید کہا کہ وہ خود دو دن بعد جیل کا دورہ کریں گے اگر کوئی شکایت ملی
تونتائج کی ذمہ دار جیل انتظامیہ ہوگی۔
واضح رہے کہ 9 جون 2017 کو رکن قومی اسمبلی اور پاکستان عوامی راج پارٹی کے
سربراہ جمشید دستی کو نہر کا پانی زبردستی کھولنے کے جرم میں 14 روزہ
جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل ملتان بھیج دیا گیا تھا، جمشید دستی کو 3
جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔