Jul 01, 2017 03:20 pm
views : 741
Location : CM Secretariat
Karachi- CM Sindh Syed Murad Ali Shah chairs Cabinet Meeting
کراچی ، وزیر اعلیٰ سند ھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس
کراچی میں سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مراد علی شاہ کی زیر
صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں محکمہ صنعت کی سفارش پر صوبہ سندھ میں نئی شوگر
ملیں لگانے پر پابندی عائد کرنے کی بھی منظوری دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا
کہ صوبہ میں پہلے ہی کافی شوگر ملز موجود ہیں جبکہ صوبہ میں شوگر ملوں کی
تعداد میں اضافے سے کپاس کے کاشت کار گنا کاشت کر رہے ہیں۔
کابینہ نے سندھ میں قائم کیپٹیو پاور پلانٹس کو فی یونٹ بجلی کے سلسلے میں
نیپرا کی جانب سے پیشکش کردہ قیمت میں فرق کو سندھ حکومت کی جانب سے پورا
کرنے کی بھی منظوری دی گئی، اس سلسلے میں بھی ایک بل سندھ اسمبلی کے اجلاس
میں پیش کیا جائے گا۔
سندھ کابینہ نے صوبے میں نیب کو غیر مؤثر کرنے کے لیے قانون سازی کی
منظوری دے دی ہے تاہم اس سلسلے میں پیر 3 جولائی کو سندھ اسمبلی کا اجلاس
طلب کرلیا گیا ہے۔
اجلاس میں بلدیات کے صوبائی وزیر جام خان شورو نے بتایا کہ کے فور فیز1
(2260 ایم ڈی جی) منصوبہ جون 2018 میں مکمل ہوگا۔ جس کے لیے 5 بلین روپے کی
12000 ایکڑ پر مشتمل زمین کے فور منصوبے کے لیے خریدی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کراچی میں پانی کی ضرورت 1200 ملین گیلن ہے جس میں
کینجھر سے 550 ملین گیلن جبکہ حب سے کراچی کو 650 ملین گیلن پانی ملتا ہے۔
جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کے۔فور کراچی کے لیے بہت اہم منصوبہ ہے،
میں چاہتا ہوں یہ کسی صورت میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔
جام خان شورو نے کہا کہ کے فور منصوبے کے لیے ساڑھے تین ارب روپے کے اضافی
فنڈز درکار ہیں۔ جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے
درخواست کروں گاکہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو نظر میں رکھتے ہوئے آدھی رقم
دیں۔
صوبائی کابینہ نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ پاکستان
کرکٹ ٹیم کو جلد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مدعو کریں، اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے
کابینہ کو بتایا کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مدعو کرنے کے
لیے پہلے ہی خط لکھ چکے ہیں۔