Jul 02, 2017 05:51 pm
views : 652
Location : Falleti,s Hotel
Lahore- Provincial Minister Tahir Khalil Sindhu Meeting
لاہور،چائلڈ لیبر کےخاتمے کے لئے پنجاب حکومت دن رات کوشاں ہے،صوبائی وزیر انسانی حقوق
صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امورطاہر خلیل سندھو نے کہا ہے کہ بچوں
کی جبری مشقت ایک ایسامسئلہ ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک چیلنج
بنتا جا رہا ہے اور اسکو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے۔
شہر کے مقامی ہوٹل میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے پارلیمینٹیر ینز کے ایک
اجلاس میں شرکت کے دوران صوبائی وزیر نے کہاصوبہ بھر میں اس لعنت کے ہر
قیمت پر خاتمے کے لئے پنجاب حکومت دن رات کوشاں ہے۔جنوری 2016میں چائلڈ
لیبر آرڈیننس پنجاب اسمبلی میں پاس ہو چکا ہے اور 14سال تک کی عمر کے بچوں
کو پنجاب حکومت بھٹوں سے تعلیم کی طرف لارہی ہے اور مفت
کتابیں،یونیفارم،جوتوں وغیرہ کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ایکٹ بن جانے کے بعد جبری مشقت ایک ناقابل ضمانت جرم
بن چکا ہے اور 5لاکھ جرمانہ یا6 ماہ کی قید کی سزا پر عملدرآمد کیا جا رہا
ہے،صوبہ بھر میں 6090بھٹے موجود ہیں جدھر ایک ریکارڈ کے مطابق 23,642بچے
14سال سے کم عمر موجود تھے جنکو پنجاب حکومت تیزی کے ساتھ تعلیم کی طرف
لارہی ہے۔
طاہر خلیل سندھو نے مزید کہا ہے کہ بھٹہ مزدوروں کو درپیش مسائل سے حکومت
بخوبی آگاہ ہے اور ان مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے لئے متحرک ہے،عام طور
پر بھٹے 6ماہ چلتے ہیں جبکہ6 ماہ اس کی آگ ٹھنڈی رہتی ہے،بھٹہ مزدوروں کے
خراجات ذیادہ جبکہ آمدنی کم ہے اور ان تمام ایشو ز کے جلد حل کیلئے پنجاب
حکومت اپنا مرکزی کردار نبھا رہی ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ حکومت کے ساتھ
ساتھ سول سوسائٹی کو بھی اپنا مثبت کردارادا کرنا ہوگا تاکہ جبری مشقت
کروانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔