Jul 03, 2017 01:38 pm
views : 659
Location : Different Places
Chitral- Bank In bad Condition
چترال،نیشنل بنک مین برانچ چترال کی مسمار شدہ عمارت چترال کی خوبصورتی پر بد نما داغ بن گئی
نیشنل بنک مین برانچ چترال کی مسمار شدہ عمارت چترال کی خوبصورتی پر بد نما
داغ بن گئی ہے ساتھ ساتھ بنک میں چھوٹے کرنسی نوٹ اور کیش کی عدم دستیابی
سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنابھی کرنا پڑ رہا ہے۔
چترال میں سرکاری بنک یعنی نیشنل بنک مین برانچ کی اپنی عمارت کو سال 2012
میں بائی پاس روڈ کیلئے مسمار کیا گیا، تباہ شدہ عمارت چترال کی خوبصورتی
پر نہایت بد نما داغ بن گئی ہے جبکہ بنک کا عملہ کرائے کی ایک عمارت میں
کام کرتا ہے جہاں کسٹمرز کا کہنا ہے کہ نہ تو بیٹھنے کی جگہ ہے نہ کھڑا
ہونے کی بلکہ بنک کا عملہ بھی کافی مشکلات سے دوچار ہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سرکاری ملاز م جو اس
بنک کا کسٹمر بھی ہے نے کہا کہ اسے عید کے موقع پر بھی بروقت نہ تو تنخواہ
مل سکی اور نہ نئے (فریش) نوٹ۔ تاجر یونین دروش کا نمائندہ سعید اللہ خان
کاکہنا ہے کہ نیشنل بنک میں نہ تو دس، بیس، پچاس اور سو روپے کے نوٹ یعنی
چھوٹے کرنسی نوٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہ صرف تاجر پیشہ حضرات کو
مشکلات ہیں بلکہ عوام بھی اس سے کافی پریشان ہیں سرکاری بنک میں چھوٹے نوٹ
دو سالوں سے آتے ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے باقی کمرشل بنکوں کو بھی یہ
سپلائی نہیں کرسکتے۔
نجی بنک کے حب منیجر انعام اللہ کا کہنا ہے کہ یہ نیشنل بنک کی ذمہ داری
ہے کہ ضلع بھر میں تمام کمر شل بنکوں کو نہ صرف بروقت کیش فراہم کرے بلکہ
چھوٹے اور فریش نوٹ بھی ان بنکوں کی ضرورت ہے، چونکہ چترال میں تمام نجی
(کمرشل) بنکوں کو بروقت رقم کی ترسیل اور چھوٹے کرنسی نوٹوں کی فراہمی صرف
نیشنل بنک مین برانچ کرتی ہے مگر مین برانچ میں کیش کی کمی اور چھوٹے نوٹوں
کی عدم دستیابی سے نہ صرف کمرشل بنکوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ عوام
بھی کافی پریشا ن ہیں۔
اس سلسلے میں جب نیشنل بینک مین برانچ چترال سے رابطہ کیا گیا تو بنک کے
ترجمان نے کہا کہ ان کو پہلے سٹیٹ بنک پشاور سے جہاز کے ذریعے کیش آتا تھا
جس میں چھوٹے اور نئے نوٹ بھی ہوا کرتے تھے مگر پچھلے دو سالوں سے یہ سلسلہ
بند ہوا ہے اور ان کو اب تیمر گرہ برانچ سے کیش آتا ہے جس میں کئی مسائل
ہیں ایک تو وہ پرانے نوٹ بھیجتے ہیں دوسرے ان میں چھوٹے نوٹ ہوتے نہیں ہیں۔