پشاور،دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ،دریائے کابل کے کنارے آباد لوگوں کی مشکلات میں اضافہ
خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں کی وجہ سے دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ پیدا
ہوگیاہے جبکہ دوہزارچودہ کے سیلاب میں تباہی سے دوچار ہونے والے نوشہرہ کے
علاقے کیمپ کورونہ میں دریا ئے کابل کے کنارے پشتوں کی تعمیر کا کام بھی
بروقت مکمل نہ کیاجاسکا ، حفاظتی انتطامات نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں
کو پریشانی کاسامناکرنا پڑ رہا ہے.
ملک بھر میں ہونےوالی مون سون بارشوں سے جہاں ایک طرف حبس اور گرمی کا زور
ٹوٹ چکاہے وہی دوسری جانب دریاؤں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی
پیداہوگیاہے جبکہ نوشہرہ کے علاقے کیمپ کورونہ میں دریائے کابل کے کنارے
شروع کیےجانیوالی حفاظتی دیوار کی تعمیر پر کام برقت مکمل نہ ہونے سے مقامی
لوگوں کوپریشانی کاسامنا ہے،دوہزار چودہ میں سیلابی ریلے سے علاقے میں
تباہی مچنے کے بعد حفاظتی دیوار کی تعمیرپر کام کا آغاز کیاگیاتھا مگر
ٹھیکیداررمضان سے قبل ہی رقم نہ ملنے پر کام ادھورا چھوڑ کر رفوچکر ہوگیا۔
ناقص مٹیریل کے استعمال سے آدھی تعمیر کی جانیوالی حفاظتی دیواربھی جگہ جگہ
ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ وارننگ جاری ہونے
کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے علاقہ مکینوں کو کسی بھی قسم کے حفاظتی اقدامات
کرنے یا سیلاب کے خطرےسے تاحال آگاہ نہیں کیا ۔
گزشتہ سال بھی نوشہرہ میں سیلابی ریلے کی وجہ سے فصلوں اورکچی آبادی کو شدید نقصان پہنچا تھا ۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سےگفتگو کرتے ہوئے ایک شخص نے کہاکہ ہمارا
گاؤں وزیر اعلیٰ کے پی کے کے حلقے میں آتا ہے جبکہ 2013،14 میں بھی سیلاب
آیا تھااس وقت بھی انتظامیہ کی طرف سے کوئی مدد نہیں کی گئی اور اب بھی
سیلاب کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی۔
ایک اور شخص نے کہا کہ ٹھیکیدار کا کہنا ہے کہ اسکے بل رکے ہوئے ہیں لیکن جون کے مہینے میں ہی اس کام کا مکمل ہونا ضروری ہے۔