Jul 11, 2017 02:16 pm
views : 577
Location : Memon Hospital
Karachi- CM Sindh Syed Murad Ali Shah Visit Memon Hospital
کراچی،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا میمن اسپتال کا دورہ
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے میمن اسپتال کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نرسنگ اسکول کے قیام کیلئے
سالانہ 42 ملین روپئے کی گرانٹ دیتی رہے گی،ہسپتالوں میں نرسز کے کردار اور
اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں، انہوں نے
کہا کہ میری ہر ممکن کوشش ہے کہ عوام کو صحت کی بہتر سہولیات مہیا کرنے
والے افراد کا ہاتھ بٹاسکوں،انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ
نجی اسپتالوں کی مالی معاونت بھی جاری رہے گی،میرامقصد سندھ کے عوام کو
تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقنی بنانا ہے۔
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے اسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کرتے ہوئے
اسپتال انتظامیہ سے کہا کہ وہ مریضوں کو دی گئی سہولیات سے متعلق وقتاً
فوقتاً آگاہی لیتے رہیں،وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ میمن اسپتال حکومت
سندھ، نجی اداروں اور مختلف شخصیات کی مدد سے غریب اور نادار مریضوں کی
خدمت کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے، بعدازاں وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز
کی میٹنگ کی بھی صدارت کی جس میں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں صحت
کے شعبے میں ترجیحاً پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
اسپتال انتطامیہ کے ساتھ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت نے
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کی شروعات بدین کے اسپتال سے کی تھی،
سندھ حکومت نے صحت کے شعبے میں ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے، میری پوری کوشش
ہوگی کہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کا ہاتھ بٹاسکوں، انہوں بورڈ آف
ڈائریکٹرز کے شرکاء کو بتایا کہ میمن اسپتال کے دوستوں نے سڑک تعمیر کرنے
کا کہا تو میں نے تین ماہ میں روڈ بناکردے دی، یہی وجہ ہے کہ میں چاہتا ہوں
کہ عوام کو صحت کی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا ہوں، سالانہ 42 ملین روپئے
گرانٹ کے ساتھ ساتھ آپ کو مزید فنڈز بھی دے رہے ہیں، ہم کراچی کی ہر لحاظ
سے خدمت کرتے رہیں گے،میٹنگ میں وزیراعلیٰ سندھ کے لیے اسپتال انتظامیہ کی
جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اعلیٰ تعلیم، انجنیئرنگ اور
معاشیات ان کو ممتاز بناتی ہے، اس موقعے پر میمن اسپتال کے فاؤنڈیشن کے
چیئرمین پیر محمد دیوان نے بھی وزیراعلیٰ سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے
کہا کہ آپ اپنی زبان اور وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں۔
دورے کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے
ہوئے کہا کہ میمن میڈیکل اسپتال کی جانب سے دورے کی دعوت پر وزٹ کیا، میمن
میڈیکل اسپتال کافی عرصے سے کام کررہاتھا اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم
کرکے وہ انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، جوکہ اچھا کام ہے،نرسنگ اسکول کے
قیام کیلئے سندھ حکومت ان کی ہر ممکن مدد کرے گی، انہوں نے کہا کہ گڈاپ اور
ملیر کے کچھ صحت کے مراکز کو میمن میڈیکل اسپتال سے ملانے کیلئے بھی غور
کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ps۔114 منی پاکستان ہے،2018 کے انتخابات میں بھی
کراچی میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے،ضمنی انتخاب جیت کر ثابت کردیاہے کہ
کراچی میں پیپلزپارٹی کا اسٹیک ہے،لوگ سمجھتے تھے کہ پیپلزپارٹی کراچی میں
دلچسپی نہیں لیتی، لیکن ہم نے ترقیاتی کام کرواکر عوام کی خدمت کرکے یہ
ثابت کیا تو یہ تاثر غلط ہے،الیکشن میں پیسے چلانے کی بات من گھڑت اور بے
بنیاد ہے۔
مراد علی شاہ نے کہاکہ سعید غنی ایک مزدور کا بیٹاہے،اگر ووٹ پیسے خریدے
جاتے تو سارے امیر انتخابات پیسے کے بنیاد پر جیت جاتے، ایک اور سوال کے
جواب میں انہوں نے بتایا کہ احتساب کے قوانین بنانا سندھ حکومت کا اختیار
میں شامل ہے،نیب قوانین کی منسوخی کا بل گورنر کے پاس موجود ہے اس پر زیادہ
تبصرہ نہیں کروں گا،قانون بنانا اسمبلیوں کا کام ہے،نیب کے خلاف عدالتوں
کے ریمارکس موجود ہیں،اداروں پر واضع کرتاہوں کہ بیچ ہنٹینگ نہیں چلے
گی،اپنی حرکت بند کردیں،صوبائی اسمبلی نے اپنے اختیار میں رہ کر قانون
منظور کیاہے، انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ کے بیانات پر افسوس ہوا ،انکو
چاہیئے تھا کہ بیان دینے کے بجائے اسمبلی کے بھیجے ہوئے بل پر دستخط کرتے۔
اس موقعے پر وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو اور سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو بھی تھے۔