کراچی ، پاکستان غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے مذموم عزائم سے مکمل طورپر آگاہ ہے ،جنرل زبیر محمو د حیات
پاک بحریہ کے آفیسرز کی 107ویں مڈ شپ مین اور 16ویں شارٹ کمیشن کورس کی
کمیشننگ پریڈ پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں منعقد ہوئی۔ سخت
عسکری تربیت کی تکمیل پر آج 72پاکستانی اور 28دوست ممالک کے افسران نے
کمیشن حاصل کیا ۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمو د
حیات اس پر وقار تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔
پاکستان نیول اکیڈمی آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکا ء اللہ نے مہمان خصوصی کا خیر مقدم کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ
پاکستان تما م ممالک بالخصوص پڑوسی ممالک کے ساتھ پر امن بقائے باہمی اور
دیرپا تعلقات کا خواہش مند ہے تاہم اس خواہش کی تکمیل کے لیے ہم اپنے قومی
مفادات ، خود مختاری اور ملی وقار پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم خطے اور اس کے اطراف میں امن و سلامتی، استحکام اور
خوشحالی کے فروغ کے لیے تمام ممالک کے ساتھ مل کام کرنا چاہتے ہیں۔
مہمان خصوصی نے مزید کہا کہ پاکستان غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے مذموم عزائم
سے مکمل طورپر آگاہ ہے جو بالعموم پورے پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں
عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے افغانستان اور دیگر مقامات سے کارروائیاں کر
رہی ہیں۔ ہم اس امر سے بھی غافل نہیں کہ یہ خفیہ ایجنسیاں پاک چین اقتصادی
راہداری کو بھی سبو تاژ کرنے کے درپے ہیں۔ ان تمام چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے
کے لیے قومی سطح پر مربوط کوششیں کرنے کے لیے ہم پر عزم ہیں اور مسلح
افواج اس ضمن میں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔
جنرل زبیر حیات نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری ، جس میں گوادر کو مرکزی
حیثیت حاصل ہے، کی تیز رفتار ترقی کے باعث ساحلی پٹی کی میری ٹائم
سیکیورٹی مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ مہمان خصوصی نے کہا کہ یہ امر باعث
اطمینان ہے کہ پاک بحریہ نے سی پیک اور گوادر پورٹ کے تحفظ کے لیے خصوصی
ٹاسک فورس (ٹاسک فورس 88) قائم کی ہے جس کا مقصد روایتی اور غیر روایتی
خطرات سے نمٹنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجود ہ صورتحال میں میر ی ٹائم سیکیورٹی کے حوالے سے
ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک موثر اور جدید بحریہ ناگزیر ہے
۔اس اہم سنگ میل کے حصول پر پاس آؤٹ ہونے والے آفیسرز کو مبارک باد پیش
کرتے ہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے مڈشپ مین اور کیڈٹس پر
زور دیا کہ وہ شخصی وقار، ایمانداری اور خلوص نیت کو اپنا شعار بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ افسران اپنے ماتحت کام کرنے والے افراد میں ایمانداری اور
خوداعتمادی کے اوصاف پیدا کریں اور ان کے اندر مقصدیت کا سچا جذبہ اجا گر
کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاک بحریہ دوست ممالک سے
آنے والے افسران کی عسکری تربیت میں مدد فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے امید
ظاہر کی بعد از تربیت یہ افسران اپنے اپنے ممالک میں جا کر اپنی صلاحیتوں
کا لوہا منوائیں گے۔
قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں پاکستان نیول اکیڈمی کے کمانڈنٹ نے
آفیسرز کو دی جانے والی تربیت کے نمایاں پہلووؤں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے
حاضرین کو آگاہ کیا کہ کمیشننگ ٹرم 80مڈشپ مین پر مشتمل ہے جس میں 52کا
تعلق پاکستان اور28کا تعلق دوست ممالک سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ سروس
کمیشن کے 20آفیسرز نے بھی آج کمیشن حاصل کیا ہے۔ کمانڈنٹ نے آگاہ کیا کہ
پاکستان نیول اکیڈمی میں بحرین ، اردن، مالدیپ، قطر، سعودی عرب ، سری لنکا
اور ترکمانستان کے کیڈٹس بھی زیر تربیت ہیں۔
بعد ازیں مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آفیسرز میں
انعامات تقسیم کیے۔ مڈ شپ مین احمد فراز کو ان کی مجموعی بہترین کارکردگی
پر اعزازی شمشیر عطا کی گئی جبکہ مڈشپ مین سرمد عارف نے اکیڈمی ڈرک حاصل
کی۔ کیڈٹ سید ارتضیٰ حیدر نقوی اور کیڈٹ محمد فضل کبیر نے بالترتیب چیئرمین
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی گولڈ میڈل اور کمانڈنٹ گولڈ میڈل حاصل کیاجبکہ
ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے کیڈٹ اکمادوو مامر کو چیف آف دی نیول اسٹاف
گولڈ میڈل سے سرفراز کیا گیا۔
تقریب میں سینئر فوجی آفیسرز، سفراء، مختلف ممالک کے دفاعی مندوبین، نمایاں
سول شخصیات اور پاس آؤٹ ہونے والے مڈشپ مین اور کیڈٹس کے والدین نےشرکت
کی۔