Jul 26, 2017 04:58 pm
views : 668
Location : Domestic Place
Pakistan- Navy hosts Indian Ocean Naval Symposium Working Group Meeting
پاک بحریہ کی جانب سے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کے
موضوع پر انڈین اوشن نیول سمپوزیم کے ورکنگ گروپ ورکشاپ کا انعقاد
پاک بحریہ کی سرپرستی میں انڈین اوشن نیول سمپوزیم (آئی او این ایس) ورکنگ
گروپ کی دو روزہ سر گرمیوں کا آغاز 25جولائی سے اسلام آباد میں ہوچکا ہے،
آئی او این ایس ورکنگ گروپ کے اس اجلاس کی صدارت پاک بحریہ کرر ہی ہے،
ورکنگ گروپ دس ممبر ممالک پر مشتمل ہے جس میںآسٹریلیا، ایران،بنگلہ دیش ،
بھارت ،پاکستان،تھائی لینڈ، سنگا پور، عمان، فرانس اور متحدہ عر ب امارات
شامل ہیں ۔
یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان آئی او این ایس کی سر گرمیوں کاا نعقادپاکستان
میں کر رہا ہے، سال 2015میں پاک بحریہ نے کراچی میں معلومات کے تبادلے اور
مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کے موضوع پر آئی او این ایس ورکنگ گروپ اور آئی
او این ایس تمہیدی ورکشاپ کا انعقاد کیا،اس مرتبہ بھی آئی او این ایس ورکنگ
گروپ کا موضوع 146146معلومات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی
صلاحیت145145 ہے ۔
اسلام آباد میں منعقدہ آئی او این ایس کی سر گرمیوں کے افتتاحی سیشن سے
خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) ریئر ایڈمرل محمد فیاض
جیلانی نے عالمی میری ٹائم کمیونٹی میں بحرِ ہند کی افادیت پر روشنی ڈالی۔
ریئر ایڈمرل جیلانی نے مزید کہا کہ انرجی کی دولت سے مالا مال ہونے کی وجہ
سے بحرِ ہند کو سکیورٹی اورماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، میری ٹائم خطرات
کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں میری ٹائم سکیورٹی کو لاحق خطرات
بنیادی طور پر دہشت گردی، بحری قزاقی اور منشیات و انسانی سمگلنگ جیسے ہم
عصر خطرات سے جنم لیتے ہیں، اس لئے خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے
کے ضمن میں مشترکہ میری ٹائم سکیورٹی ناگزیر ہو گئی ہے۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف(آپریشنز) نے مزید کہا کہ پاک بحریہ میری ٹائم ماحول
کو درپیش چیلنجز کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور مشترکہ میری ٹائم سکیورٹی کے
تصورپر راسخ عقیدہ رکھتے ہوئے دوسری اتحادی اقوام کے ساتھ مل کر میر ی ٹائم
سکیورٹی اور بحری قزاقی کی بیخ کنی کے آپریشنز میں بھر پور کردار ادا کر
رہی ہے،مشترکہ ٹاکس فورسز 150اور 151میں پاک بحریہ کی شرکت نے شمالی بحیرہ
عرب میں امن اور سکیورٹی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
ریئر ایڈمرل جیلانی نے مزید کہا کہ پاک بحریہ کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ وہ
آئی او این ایس جیسی سر گرمیوں میں حصہ لے کیونکہ یہ فورم خطے کی امن و
سلامتی میں اہم کردار ادا کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، عالمگیریت کے
اس دور میں معلومات کے تبادلے کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، معلومات
کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کے موضوع پرآئی اواین ایس ورکنگ
گروپ نے آئی او این ایس کے تمام ممبران اور مندوبین کو ایک دوسرے کے ساتھ
جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا اور مشترکہ مفادات کے سلسلہ میں تعاون کو مزید
وسعت دی۔
بعد ازاں ، ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) پرویز اصغر نے اپنے کلیدی خطاب کے دوران
علاقائی رابطہ سازی میں پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت کا ذکر کیا اور
خطے میں بحری تجارت میں اضافے میں اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی، انہوں
نے باہمی مفادات کی سکیورٹی کے لئے باہمی تعاون اور متفقہ سوچ کی اہمیت پر
روشنی ڈالی۔
انڈین اوشن نیول سمپوزیم ایک کثیر القومی فورم ہے جس کا قیام سال 2008میں
عمل میںآیا،پاکستان مارچ 2014میں اس کا رکن بنااور چند سالوں کے دوران فورم
نے علاقائی میری ٹائم اُمور میں قابلِ قدر اہمیت حاصل کی ہے،دور وزہ سر
گرمیوں کے دوران آئی اواین ایس ورکنگ گروپ معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے
اور آئی او این ایس ممبر ممالک کے درمیان مشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیت
میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات پر غورو حوض کرے گا،معلومات کے تبادلے اور
مشترکہ آپریشنز ورکنگ گروپ میں تمام ممبر ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں۔