لاہور،نجی لاء کالج کی طالبہ کوخنجر کے وار سے زخمی کرنے والیبا اثر شخصیت کے بیٹے کو سات سال قید کی سزا
لاہور کی مقامی عدالت نے خدیجہ صدیقی کیس میں ساتھی طالبہ کو خنجروں کے وار
سے زخمی کرنے والے بااثر شخصیت کے بیٹے شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا
سناتے ہوئے کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین اعوان نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو فوری گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔
واضح رہے کہ ملزم شاہ حسین پر اقدام قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں پہلے
ہی درج تھا جبکہ پولیس شاہ حسین سے ورادات میں استعمال ہونے والی
موٹرسائیکل اور چھری بھی برآمد کرچکی تھی۔
یاد رہے کہ 24 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے
جوڈیشل مجسٹریٹ کو خدیجہ پر حملے کا ٹرائل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایات
جاری کی تھیں۔
نجی لاء کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی کو ان کے ہم جماعت شاہ حسین نے گذشتہ
سال 3 مئی کو اْس وقت حملے کا نشانہ بنایا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن صوفیہ
کو اسکول سے گھر واپس لانے کے لیے گئی تھی،ابھی خدیجہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے
ہی والی تھی کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین ان کی جانب بڑھے اور خدیجہ کو 23 بار
خنجر سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا،جس کے بعد سول لائنز پولیس نے ایڈووکیٹ
تنویر ہاشمی کے بیٹے شاہ حسین کے خلاف اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ
درج کیا تھا۔
خدیجہ صدیقی کے وکیل نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے
کہاکہ چیف جستس لاہور ہائیکورٹ کے شکر گزار ہیں جنہوں واقعے کا نوٹس
لیاجبکہ خدیجہ کے مقدمے کی طرح دیگر مقدمات کے فیصلے بھی جلد کئے جانے
چاہیے۔