پاکستان، برصغیر کی تقسیم کا درد بچھڑے ہوئے خاندانوں کے دلوں میں آج بھی تازہ
نئی دہلی میں قائم شاندار 17ویں صدی کی جامع مسجد کے قریب رہائش پذیرہزاروں
مسلمان خاندان بھارت اور پاکستان کے درمیان درد ناک تقسیم کے باعث ایک
منقسم زندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں پڑوسی برطانیہ سے آزادی اور اسکے نتیجے
میں دو ریاستوں کے قیام کے 70 سال کا جشن تو منارہے ہیں لیکن اس علیحدگی کے
باعث جد ا ہوجانے والے خاندانوں کے دلوں میں اسکا درد آج بھی تازہ ہے۔
1947 میں تشدد اور خون ریزی کے باعث وسیع پیمانے پر ہجرت کے بعد لاکھوں
لوگوں نے خودکو سرحد کے غلط اطراف پر پایا۔ ایک ملین سے زائد لوگ تقسیم کے
اس سیاسی زلزلے کے باعث ہلاک ہوئے۔ فہمی خاندان کو بھی اس تلخ تجربے سے
گزرنا پڑا جو کہ اپنے بھائی مفتی شوکت علی فہمی سے جد اہوگیا۔ مفتی شوکت
علی فہمی نے بھارت میں رہنے کا انتخاب کیا جبکہ انکی بہن سعدیہ پاکستان
آگئیں۔ سعدیہ 1947کی تقسیم کے فوراً بعد وفات پاگئیں لیکن اُنکے بچوں نے
بھارت میں اپنے آبائی خاندان اور کزنز کے ساتھ روابط برقرار رکھے۔ مفتی کے
بیٹے ارشد اور آصف جامع مسجد کے قریب رہتے ہیں جبکہ سعدیہ کا خاندان کراچی
میں رہائش پذیر ہے۔63سالہ آصف فہمی جو کہ پیشے سے ایک صحافی اور پبلشر ہیں ،
نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگیوں نے سرحد پار خاندانوں کے
درمیان ناپسندیدہ رکاوٹوںکو پیدا کردیا ہے۔
اپنے پیاروں سے جداخاندان ملاقات کے لئے پاکستان کا سفر کرنے کے بجائے
تیسرے ملک جیسے کہ انگلینڈ یا امریکہ وغیرہ میں ملنا آسان سمجھتے ہیں، اس
حوالے سے ارشد فہمی کا کہنا ہے کہ جب آپ کسی دوسرے ملک میں جارہے ہوتے ہیں
تو وہان کوئی پابندیاں نہیں ہوتیںلیکن پاکستان جانے پر بہت سے سوالات پوچھے
جاتے ہیں کہ آپ کیوں جارہے ہیں ، کس لئے جارہے ہیں جو کہ ایک تکلیف دہ عمل
ہے۔
دریں اثناء، کراچی کے گھر میں آصف فہمی کے مرحوم کزن کی 75 سالہ بیوہ
ریحانہ کا کہناہے کہ وہ شمالی بھارت کے مردآبادشہر میں اپنے گھر اور اسکول
کو بہت یاد کرتی ہیں جہاں وہ پلی بڑھیںاور اپنا بچپن گزارا۔1964 میں انکی
شادی ہوئی جس کے بعد انکے ہاں تین بیٹے ہوئے۔ اب وہ آٹھ بچوں کی دادی ہیں۔
واضح رہے دو ہزار گیارہ میں بھارتی پارلیمان میں حملے کے بعد دونوںممالک کے درمیان سفر کرنا
مشکل ہوگیا جس کا الزام نئی دہلی نے کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف لڑنے
والے پاکستان کے مسلمان عسکریت پسندوں پر لگایا۔