اسلام آباد،وزیر داخلہ احسن اقبال کا پشاور موڑ مارکیٹ کا دورہ
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے تین روز قبل آتشزدگی سے متاثرہونے والے ایچ
نائن ہفتہ وار بازار کا دورہ کیا اور سستا بازار میںآتشزدگی کے متاثرین سے
ملاقات کی، وزیرمملکت برائے کیڈ طارق فضل چودھری بھی وزیرداخلہ کے ہمراہ
موجود تھے ،اس موقع پر وزیر داخلہ نے متاثرین سے ملاقات کی اور کہا کہ
وزیراعظم سے سفارش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ مدد کی جاسکے، کوشش ہے یہ
بازار جلد ازجلد دوبارہ شروع ہواورآپ اپنے کاروبار کا دوبارہ آغاز کر سکیں۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے
کہا کہ سستا بازار میں لگنے والی آگ پر 2 گھنٹے میں قابوپالیا
گیاتھا،تحقیقاتی اور جائزہ کمیٹی2 دن میں رپورٹ پیش کرے گی،اگر اسٹالز پر
آگ بجھانے کے آلات موجود ہوتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا،وزیراعظم سے سفارش
کروں گا کہ متاثرین کی امداد کی جائے،سی ڈی اے سے کہا ہے کہ اہم عمارات میں
حفاظتی اقدامات مکمل ہونے چاہئیں،سی ڈی اے کمرشل پلازوں اوردیگرعمارتوں
میں سیفٹی پرسمجھوتا نہ کریں،فائرٹینڈرزہوتے تو سستابازار میں آگ سے اتنا
نقصان نہ ہوتا،اگر اسٹالز پر آگ بجھانے کے آلات موجود ہوتے تو اتنا نقصان
نہ ہوتا،ملکی مفاد دیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے،ڈان لیکس کی انکوائری انجام تک
پہنچ چکی,ممکنہ فیصلے کے نتیجے میں ہونیوالے نقصان کابھی پوچھنا
چاہیے,عدالتی فیصلے کی قیمت پاکستان کو 14ارب روپے اداکرنی پڑی ،دشمن ہمیں
آپس میں لڑانا چاہتاہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جے آئی ٹی بننے کے بعد سرمایہ کاری پاکستان میں رک
گئی، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان کو 14 ارب ڈالر قیمت ادا کرنی پڑی
ہے، ڈان لیکس کے معاملے پر فوجی اور عسکری قیادت نے ملکر کام کیا، دنیا کو
بتانا ہوگا کہ ہماری صفوں میں انتشار نہیں ہے۔
احسن اقبال نے مزیدکہا کہ آئین اور قانون کے راستے پر چلتے ہوئے متحد ہو کر
آگے بڑھنا ہے، ہر ذی شعور پاکستانی کو نظرآرہا تھا افغانستان اور دنیا میں
حالات کدھر جارہے ہیں، متعدد مرتبہ ٹی وی پر بات کی کہ پاکستان کے اردگرد
سازشیں ہورہی ہیں، وزارت داخلہ نیشنل ایکشن پلان اور ملکی سلامتی کے حوالے
سے مستقبل میں اپنا کردار ادا کرے گی۔