کراچی،قربانی کے جانوروں کے چارے کی دکانیں سیکڑوں افراد کے عارضی روزگار کا سبب
عیدالاضحی کے قریب آتے ہی شہر بھر میں جگہ جگہ قربانی کے جانور گھروں کے
باہر اور مختلف مقامات پر کھڑے نظر آرہے ہیں، شہریوں کی خواہش ہے کہ وہ
قربانی سے قبل جانوروں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کریں، نوجوان، بڑے اور بچے
قربانی کے جانوروں کی خدمت میں مصروف ہیں۔
قربانی کے جانوروں کے چارے کی دکانوں پر سیکڑوں افراد کو عارضی روزگار مل
گیا ہے، شہر کی ہر سڑک پر جانوروں کے چارے کی دکانیں اور اسٹال لگ گئے ہیں،
گزشتہ سال کی نسبت جانوروں کی خوراک میں شامل اشیا کی قیمتوں میں عید
قربان سے قبل 30 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، شہر کی سڑکوں اور محلوں میں جانوروں
کے چارے کے عارضی اسٹال لگ گئے ہیں ، چارا بیچنے کا کام عیدالاضحی سے15 روز
قبل شروع ہوکر عید کے تیسرے دن تک جاری رہتا ہے، چارے کی فروخت کے کاروبار
سے سیکڑوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل جاتا ہے، جانوروں کی خوراک میں
کھل، چوکر، دانا بھوسا، مکئی، جو، گیہوں، ہرا چارا، سوکھا چارا، کٹا ہوا
چارا (گڈی)، چنے کا چھلکا، بھوسا شامل ہوتا ہے ۔
شہر کے کئی مقامات پر ہول سیل قیمت پر جانوروں کا چارا فروخت ہورہا ہے ،
دکاندار ہول سیل سے چارے کی اشیا خریدکر اسٹالوں پر 10 سے 15 فیصد منافع
رکھ کر فروخت کرتے ہیں، امسال جانوروں کی خوراک میں استعمال ہونے والی اشیا
کی قیمتیں 20 سے 30 فیصد بڑھ گئی ہیں۔
اس سلسلے میں وقارجاوید نے کہاکہ جانوروں کے ساتھ چارہ بھی مہنگا ہوگیا ہے
اس طرح کے استالز کء لگنے سے لوگوں کو روزگار میسر آرہا ہے لیکن دکاندوروں
کو بھی خیال کرنا چاہیے۔
ایک دکاندارمحمد شعیب نے کہا کہ ہر سال اسٹال لگاتے ہیں جس سے لوگوں کو دور جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔