پشاور،مویشی منڈی میں جانوروں کی قیمتیں آسمان پر
عید قرباں کی آمد کےساتھ ہی پشاورمیں بڑے جانوروں کی منڈیوں کیساتھ بکروں
اور دمبوں کی علیحدہ منڈی سجا دی گئی ہے،تاہم گرمی،ٹیکسز اور گزشتہ سال کی
نسبت قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث شہریوں کا منڈیوں کی طرف رجحان کم ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی عیدالاضحیٰ آتے ہی بڑے جانوروں کی منڈیوں کے
علاوہ پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر چھوٹے جانوروں کی منڈی بھی قائم کی گئی ہے
جہاں خوبصورت بکریں اور دمبے منڈی کی زینت بنے ہوئےہیں لیکن گرمی
اورانتظامیہ کی جانب سے زیادہ ٹیکسز کے باعث خریداروں کی تعداد نہ ہونے کے
برابر ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں
تو دوسری جانب انتظامیہ نے جانور کو باہر لے جانے پر ٹیکس عائد کرکےعوام
کو مختلف طریقوں سے لوٹناشروع کیا ہواہے۔
انتظامیہ نے الزام کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ منڈی میں بیوپاریوں کو
مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ دیگر منڈیوں کی نسبت خریداروں سے
انتہائی کم ٹیکس لیا جاتا ہے۔
سنت ابراہیمی کیلئے جانور کی خریداری کے غرض سےعوام منڈیوں کا رخ کرتی ہیں
تاہم جانوروں کی ذیادہ قیمتیں سن کر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔
ایک نوجوان نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
مہنگائی اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ تیس ہزار کے جانور کے پچاس ہزار روپے مانگ
رہے ہیں شہر کی تمام مارکیٹوں میں یہی حال ہے۔
ایک نوجوان نے کہا کہ جو بکرا گزشتہ سال دس ہزار کا تھا اس سال سترہ اٹھارہ ہزار روپے ما نگ رہے ہیں۔
منڈی انتظامیہ کے اہلکار نے کہاکہ کہ ہم سرکاری طور پر ٹیکس لینے کا حق رکھتے ہیں جبکہ کم سے کم ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔