منی، حجاج حج کے موقع پر رمی کرتے ہوئے
سعودی عرب میں عید الاضحی پر مذہبی جوش و جذبہ پایا جاتا ہے، سعودی عرب میں
عید کے تیسرے دن مہمان نوازیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، دوسری طرف دنیا بھر
سے آئے لاکھوں حجاج کرام کی جانب سے تیسرے روز بھی رمی کا سلسلہ جاری رہا،
دوسرے اورتیسرے دن شیطان کو کنکریاں مارنا حج کا رکنِ اعظم شمار ہوتا ہے،
آج بارہ ذی الحج کو غروبِ آفتاب سے پہلے حجاج منیٰ سے نکل جائینگے،اس دوران
کسی قسم کی ہنگامی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جمرات کی توسیع سے
حجاج کرام کو کافی سہولت ہو گئی ہے۔
تینوں دن منیٰ میں رات کا ایک خاص پہر گزارنا حجاج پر واجب ہے، اسکے بعد
حاجی مکہ روانہ ہوں گے، خانہ کعبہ کا الوداعی طواف کریں گے اور مناسک حج کی
تکمیل ہو جائے گی،سعودی حکومت کی جانب سے رمی کے دوران بھگدڑ یا کسی اور
حادثے سے بچنے کے لئے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔
حجاج کی سہولت کے لئے جمرات کے پاس قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار
بڑی تعداد میں موجودرہیجو اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ آنے والے راستے
سے کسی کو واپس جانے نہ دیا جائے کیونکہ اس سے کافی مشکل صورتحال پیدا ہو
سکتی ہے جبکہ اہلکار و ں کی جانب سے حجاج کی مسلسل نگرانی جاری رہی،وہاں
ہلا ل الاحمر اور محکمہ شہری دفاع کے اہلکار بھی موجود رہے تاکہ کسی بھی
ہنگامی حالت میں فوری طور پر امداد ی کارروائی کی جاسکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز
جمعرات کی شب منیٰ پہنچے اور انھوں نے وہاں حجاج کرام کو سعودی حکومت کی
جانب سے مہیا کی جانے والی سہولتوں اور خدمات کا جائزہ لیا ،سعوی حکومت کے
مطابق اس سال تئیس لاکھ سے زائد عازمین حج کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔