کراچی،وزیر اعلیٰ سندھ کی خواجہ اظہارالحسن کے گھر آمد ،صحافیوں سے گفتگو
وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار سے اْن کے گھر پر ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم
والوں کو سب سے زیادہ سیکیورٹی دی ہے،اگر اور ضرورت محسوس ہوئی تو اور
سیکورٹی دیں گے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا منصوبہ اس شہر
اور صوبے میں نہیں بنا ہوگا، انصار الشریعہ کراچی میں پلان نہیں کر رہی
تاہم آپریٹ ضرور کررہی ہے،وفاقی حکومت سے کچھ تنظیموں کو واچ لسٹ پر ڈالنے
کا کہا تھا اور وفاق کو کہا ہے کہ انصار الشریعہ کو بھی واچ لسٹ پر
ڈالیں،خواجہ اظہار پر حملہ کرنے والے مبینہ دہشت گرد کے کراچی یونیورسٹی کے
طالبعلم ہونے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ
جامعات کو بھی دیکھنا ہوگا کہ یہ دہشت گردوں کی افزائش گاہ تو نہیں بن
گئیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بغیر منصوبہ بندی کے شہر بڑھ رہا ہے اور
کوسموپولیٹن شہر کی حیثیت سے ہر زبان کا شخص اور باہر کے لوگ یہاں رہتے ہیں
اور کراچی جیسے شہر میں اور اردگرد کون رہ رہا ہے پتا نہیں چلتا،انہوں نے
کہا کہ یہ قومی مسئلہ ہے سب نے مل کر اسکا حل ڈھونڈنا ہے،پولیس اہلکار اور
بچے کا کیا قصور تھا،عید پر کوئی بھی امید نہیں کرتا کہ نماز پڑھ کر آؤں گا
تو کوئی حملہ کرے گا،میں خود بغیر سیکورٹی کے نماز پڑھتا ہوں۔