Sep 13, 2017 09:04 pm
views : 534
Location : Prime Minister House
Islamabad- PM Shahid Khaqan Abbas Interection with Foreign Media
اسلام آباد ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا، وزیراعظم
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں
کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں
اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا۔
غیر ملکی میڈیا اداروں کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد
خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مسئلے کے پرامن حل کیلیے اس خطے
کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ پرعزم ہے، پاکستان امریکا کے
ساتھ قریبی تعلقات کیلیے تیار ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں
پر مشتمل ہیں اور انہیں صرف مسئلہ افغانستان کے تناظر میں نہیں دیکھنا
چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مسئلہ بلاشبہ پاکستان کیلیے باعث تشویش ہے
اور اس کے حل کیلئے ہم نے بہت کچھ کیا ہے اور اسے شکست دی ہے۔ انہوں نے
میڈیا نمائندوں سے کہا کہ وہ میرانشاہ کا دورہ کریں اور خود اس بات کا
مشاہدہ کریں کہ پاکستان کہ فوج نے کس طرح دہشتگردی کیخلاف جنگ میں عظیم
قربانیاں پیش کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کیا ہے۔
وزیراعظم نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں الزامات کو یکسر مسترد
کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ شمالی وزیرستان بھی
ویسا ہی علاقہ ہے تاہم انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے وہاں کیا
حاصل کیا؟ پاکستان مشترکہ گشت اور چوکیوں کیلئے تیار ہے، ہم نے افغانستان
کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگائی ہے اور اگر دوسری جانب سے ایسا کیا جاتا ہے
تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔ دوسری جانب سے دہشت گردوں کی موجودگی،
پاکستانی سرحدی علاقوں پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کے خدشات دور کرنے کی
ضرورت ہے، سرحد کی دوسری جانب سے بہت کچھ ہو رہا ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے اس تاثر کو یکسر رد کر دیا کہ حملے پاکستانی علاقے سے
کیے جاتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی قیادت افغانستان میں موجود
ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں حکومت کی اچانک
تبدیلی کے بعد نئی حکومت نے ایک ہفتے کے اندر کام شروع کیا اور اب معاملات
معمول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ میری حکومت کا مینڈیٹ جمہوری عمل کو مکمل
کرنا اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہے۔ ملک میں جمہوری نظام وقت
گزرنے کیساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے، ریاستی اداروں کے مابین کوئی اختلاف
نہیں ہے۔