اسلام آباد،وزیر خزانہ اسحٰق ڈار پر فرد جرم عائد کردی گئی
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار بدھ کے روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کے
سامنے پیش ہوئے جہاں ان پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں فردِ جرم
عائد کر دی گئی ہے،جج محمد بشیر نے فردِ جرم کے نکات پڑھ کر سنائے، تاہم
اسحٰق ڈار نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔
قومی احتساب بیوریو نے اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع سے زیادہ آمدن اور اثاثے
بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کیا تھا جبکہ گذشتہ ہفتے احتساب بیوریو نے
اسحٰق ڈار کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم جاری کیا تھا، اسحق ڈار دوسری
بار احتساب عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔
اس موقع پرمسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری
نے کہا کہ کیس کی سماعت سے قبل ہمارے وکیل نے معزز عدات سے درخواست کی تھی
کہ نیب قوانین کے مطابق جب کسی فرد کے خلاف فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو اس
سے قبل مذکورہ شخص کو کم از کم 7 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے
رہنما نے کہا کہ ہمارے وکیل نے فردجرم عائد کرنے سے قبل عدالت کو اس حوالے
سے ہائی کورٹ ، آزاد کشمیر سپریم کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے
ریفرینسز بھی پیش کئے ہیں جن کے تحت ریفرینس دائر ہونے کے بعد 48 گھنٹوں کے
اندر اندر فرد جرم عائد نہ کرنے کے فیصلے موجود ہیں تاہم معزز عدالت نے
ہمارے وکیل کی استدعا سننے بغیر وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کر
دی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ احتساب عدالت نے کیس کی سماعت کے لئے 4 اکتوبر
کی تاریخ مقرر کی ہے جبکہ اس دن دو گواہوں کو بھی طلب کیا گیا ہے،مسلم لیگ
(ن) کی قیادت اور میاں محمد نواز شریف سمیت جن جن ساتھیوں کے خلاف ریفرنس
دائر کئے گئے ہیں وہ تمام عدالتوں کے سامنے پیش ہو رہے ہیں،وزیر مملکت نے
کہا کہ مسلم لیگ (ن) قانون کی بات نہیں کرتے بلکہ عملی طور پر بھی عدالتوں
میں پیش ہو رہی ہے۔