تھر ،بھاری بھر کم ڈمپر چلانے والی تھر کی ،باہمت،محنت کش خواتین
پاکستان کا پسماندہ ترین علاقہ تھر رنگ بدل رہا ہے چند ہفتے قبل ہونے والی
بارش صحرا میں ہریالی کا سبب بنی تو دوسری جانب تھر میں موجود کوئلے کے
ذخائر نے مردوں کے ساتھ خواتین کے لئے بھی روزگار کے دروازے کھول دیے ہیں
پاکستانی حکومت توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ضلع تھرپارکر میں
کوئلے کے ذخائر کو استعمال میں لارہی ہے، یوں اس پسماندہ علاقے میں مردوں
کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی روزگار کے مواقع ملنے کی امید ہے جبکہ اسلام
کوٹ میں تو کچھ خواتین بھی ٹرک ڈرائیور بن چکی ہیں۔
سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں جہاں سستے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے
منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں خواتین
کوئلے کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے بھاری ٹرک چلانے کی تربیت بھی
دی جا رہی ہے،اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ ایک مشکل کام ہے جسے صرف
مرد ہی کر سکتے ہیں۔
بھارتی سرحد کے قریب واقع اس صحرائی علاقے میں ایک اندازے کے مطابق 175 ارب
ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جن علاقوں میں کوئلہ نکالا جا رہا ہے وہاں
بڑی تعداد میں زرد رنگ کے ڈمپر ٹرک دکھائی دیتے ہیں۔
اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ان خواتین کو
تربیت دینے والی انسٹرکٹر نے کہا کہ جس دن یہ خواتین اچھی ڈمپر ڈرائیور بن
جائیں گی ان سے زیادہ خوشی مجھے ہوگی۔
سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی کے میڈیا منیجرمحسن بابر نے کہا کہ تھر کی
خواتین پہلے سے سخت کام کرتی آئی ہیں تاہم اس منصوبے میں جو پورے ملک میں
توانائی کے حوالے سے بڑی تبدیلی لانے جا رہا ہے اس میں عورت کاحصہ ہونا بہت
ضرورہی تھا ۔
کوئلہ نکالنے والی کمپنی نے کوئلہ سے بھرے ٹرک چلانے کے لیے 25 سالہ گلاباں
کو ڈمپر ٹرک کی ڈرائیونگ کی ذمہ داری سونپ دی، تین بچوں کی ماں گلاباں کا
تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے، ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرت ہوئے
گلاباں نے کہا کہ شروع میں وہ بہت نروس تھی لیکن اب وہ آسانی کے ساتھ ٹنوں
کوئلہ سے لدے ڈمپر ٹرک کو چلاتی ہے جبکہ اس قسم کی ملازمت سے خواتین مزید
با اختیار ہونگی،تھر کے علاقے میں کام کرنے والی کول مائیننگ کمپنی مزید
تیس خواتین کو ڈمپر ڈرائیونگ کی تربیت دی رہی ہے،گولابان کو دوسری تربیت
حاصل کرنے والی خواتین سے پہلے اس لیے ڈمپر ٹرک کی ڈرائیونگ مل گئی کیونکہ
وہ پہلے سے کار چلانا جانتی تھی۔
گلاباں کے خاوند ہرجیلال کا کہنا ہے اسے وہ وقت یاد ہے جب اس کی اہلیہ کار
چلاتی تھی تو اہل علاقہ اسے تذلیل کا نشانہ بناتے تھے،جب اپنی اہلیہ کے
ساتھ مسافر سیٹ پر بیٹھتا تھا تو لوگ مجھ پر ہنسا کرتے تھے،گلاباں چاہتی ہے
کہ پرانے خیالات کو چھوڑ کر ہمیں اچھے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، اس کا
کہنا ہے دیگر تربیت حاصل کرنے خواتین کو بھی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے جس سے
ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔
ملک بھر میں چین کے تعاون سے سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے کام ہو رہا ہے
جس میں توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں، چین پاکستان میں کوئلہ، پانی اور
گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہاہے تاکہ ملک میں جاری
توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی کے پاس تقریباً 125 ڈمپر ٹرک ہیں، آنے والے
دنوں میں کان کنی میں اضافے کے بعد اسے اندازاً 300 سے 400 ڈمپر ٹرکوں کی
ضرورت ہو گی،ڈمپر ٹرک کے ڈرائیور کو 40 ہزار روپے ماہانہ کے لگ بھگ تنخواہ
ملتی ہے،اس شعبے میں آنے والی خواتین روایتی ثقافتی زنجیریں توڑ رہی ہیں
اور مالی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں،تھر کی زیادہ تر خواتین گھر داری کرنے
کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں اپنے خاندان کا ہاتھ بٹارہی ہیں۔