پشاور،ڈینگی سے مرنے والوں کی تعداد 50تک پہنچ گئی
خیبر پختونخوا میں ڈینگی سے اموات کی نصف سنچری مکمل ہوگئی ہے،ڈینگی کے وار
سے ہسپتال کا عملہ بھی بچ نہ سکا،ڈینگی سے متاثرہ افراد کیساتھ مرنے والوں
کی تعداد بھی روز بہ روز بڑھتی جارہی ہے،شہری خوف میں مبتلا ہیں،جبکہ
انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔
پشاور ڈینگی وائرس کا گڑھ بن گیاہےڈینگی سے جا ں بحق ہونے والے افراد کی
تعداد 50 تک پہنچ گئی،گزشتہ کئی دنوں سے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج
اسی ہسپتال کااردلی 55سالہ الطاف اور35 سالہ ظاہر شاہ بھی ڈینگی بخار کے
باعث جان کی بازی ہار گئے،ڈینگی سے متا ثرہ افراد کیساتھ مرنے والوں کی روز
بہ روز بڑھتی تعداد نے شہریوں کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آگاہی مہم کا سلسلہ جاری ہے ،ضلعی
انتظامیہ سڑکوں پر پمفلٹ تقسیم کر رہی ہے اور ساتھ ہی لا وڈ سپیکر پر
احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگاہی بھی دے رہے ہیں،تاہم روزانہ کی بنیاد پر
سینکڑوں افراد میں ڈینگی کی تشخیص ہونے اور ڈینگی سے مرنے والوں کی تعداد
سے بے خبر ڈپٹی کمشنر پشاور ثاقب رضا اسلم نے ڈینگی سے متاثرہ علاقوں کو
تقریبا کلیئر قرار دیا۔
ڈینگی رسپانس یونٹ کے مطابق صوبے بھر کے مختلف ہسپتالوں میں اب بھی355مریض
زیر علاج ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران350افراد میں ڈینگی کی تشخیص
ہوئی جن میں112افراد کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایاگیا جبکہ98 افراد
صحتیاب ہوکرفارغ کر دئیے گئے ہیں۔
ایک بزرگ شہری نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
ڈینگی اب تہکال سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پہنچ رہا ہے،حکومت اس حوالے
سے اقدامات کرنے چاہئیں۔
ڈپٹی کمشنر پشاور ثاقب رضا اسلم نے کہا کہ ڈینگی کے حوالے سے آگاہی مہم
ناری ہے ہے جس میں روزانہ کی بنیادوں پر لاؤڈ اسپیکر میں احتیاطی تدابیر
بتائی جاتی ہیں جبکہ اس سلسے میں لوگوں میں پمفلٹ بھی تقسیم کئے جا رہے
ہیں۔