Oct 14, 2017 04:07 pm
views : 716
Location : National Defence University
Islamabad- President Mamnoon Hussain addresses National Defence University Workshop
اسلام آباد ، صدر مملکت ممنون حسین کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں منعقدہ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب
صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ داخلی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے
خارجی عوامل پر ازسر نو غور کر کے دانش مندانہ حکمت عملی تیار کی جائے
کیونکہ کشمیر، بھارت، افغانستان، ایران، مشرق وسطیٰ اور چین کی صورتِحال
براہ راست ہماری داخلی سلامتی کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں نیشنل
سیکیورٹی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندی
اور دہشت گردی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قوم نے جان و مال اور ادارہ جاتی
سطحوں پر بہت نقصانات اٹھائے ہیں لیکن اس جنگ میں ہماری کامیابی بھی غیر
معمولی ہے جس کے لیے ہمارے سول وملٹری کے جانبازوں کے علاوہ سیاسی اور
غیرسیاسی لوگوں نے بھی بیش بہا قربانیاں دی ہیں جس پریہ تمام افراد اور
ادارے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
صدر مملکت نے ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان مسائل کے حل
کے لیے ضروری ہے کہ داخلہ پالیسی کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے بعض پہلوؤں
کا احتیاط سے جائزہ لے کر ان کی اصلاح کی جائے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ملک کے بعض حصوں، خاص طور پر بڑے اربن سنٹرز میں سماج
دشمن عناصر نے منظم جرائم کو فروغ دیا جس سے ان شہروں سمیت ملک بھر کی
سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی متاثر ہو ئی۔ اس طرح کے چیلنجوں سے نمٹنے
کے لیے پورے معاشرے کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور اگرضروری سمجھا جائے
تو قانونی ڈھانچے کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی مخصوص صورتِ حال میں تعلیمی نظام اور نصاب
کو نہایت ٹھوس بنیادوں پر مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحت اور
روز گار کے شعبوں میں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے قانون نافذ کرنے
والے اداروں کی صلاحیتوں میں بہتری لانی ہو گی۔ملک و ملت کی تنظیم نو کے
لیے پوری قوم اور اس کے تمام اداروں کو پوری ذہنی یکسوئی اور آمادگی کے
ساتھ اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی کیونکہ اس طرح کے کام کسی طبقے یا مکتبہ
فکر کو نظر انداز کر کے انجام نہیں دیے جا سکتے۔
صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران مختلف مواقع پر ا ن مسائل
کے حل کے لیے اقدامات کیے گئے لیکن ہمیں جتنے بڑے اور ہمہ گیر چیلنج درپیش
ہیں، اس کے مقابلے میں ان میں مزید وسعت، جامعیت اور ہمہ گیریت لانا ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نیشنل ایکشن
پلان تشکیل دیا جس کے تحت شدت پسندوں اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے
کثیرالجہتی پالیسی ترتیب دی گئی۔ اب ضروری ہے کہ اس پلان کی کامیابی کے لیے
تما م وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
ورکشاپ میں اراکینِ پارلیمنٹ، اعلیٰ سول و فوجی حکام اور سول سوسائٹی کے
افراد شریک تھے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا میں سرٹیفکیٹ بھی
تقسیم کے۔
اس موقع پر این ڈی یو کے قائم مقام صدر میجر جنرل سمریز سالک نے بھی خطاب
کیا جبکہ سینیٹر روبینہ خالد، رکن پنجاب اسمبلی شہر یار ملک اور سول
سوسائٹی کے نمائندے عامر درانی نے ورکشاپ کی سفارشات سے سامعین کو آگاہ
کیا۔