اسلام آباد،پمز اسپتال کے ملازمین کا احتجاج 20ویں روز میں داخل
پاکستان انسٹیٹیوٹ آ ف میڈیکل سائنسز ( پمز) کا احتجاج 20ویں روز میں داخل
ہو گیاہے تاہم معاملات حل نہ ہوئے جبکہ وزارت کیڈ اور وزیر مملکت کیڈ بھی
خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں،ملازمین نے آج پمز کے اندر بڑے جلسہ کا اعلان
کیا ہے جس میں وفاقی دارالحکومت کی سیاسی ،سماجی،اور مزدور تنظیموں کو شرکت
کی دعوت دی گئی ہے ۔
یونین رہنماکہتے ہیں انکی ہڑتال ٹوکن ہےیعنی صبح آٹھ سے دن گیارہ بجے تک
ہوتی ہے جس کے بعد ملازمین اپنے شعبوں میں کام کرتے ہیں لیکن مریضوں کا
کہنا ہے کے اسپتال کے اسی فیصد شعبوں میں کام نہیں ہورہا ہے۔
احتجاجی ملازمین نے موقف اختیار کیا ہے کہ ہم خدمت بھی کررہے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کی جدوجہد بھی جو کہ ہمارا آئینی حق ہے ۔
ملازمین کی ہڑتال کے سبب اسپتا ل آنے والے مریضوں کی مشکلات میں آئے روز
اضافہ ہو رہا ہے،اسپتال آنے والے مریض اور انکے اہلخانہ بے بسی کی تصویر
بنے ہوئے ہیں اور اپنی مدد آپ کے تحت ہی مریضوں کے علاج کا بندوبست کرتے
نظر آرہےہیں ،اسپتام میں ایمبولینس ،اسٹریچر اور دیگر سہولیات تو موجود ہیں
تاہم عملہ نہ ہونے کی سبب اسپتال آنے والے مریض مایوس واپس جا رہے ہیں۔