خاران ، جامع مسجد خاران کی حفاظت اور دیکھ بھا ل نہ ہونے کی وجہ سے سیاح مایو سی کاشکار
بلو چستان کے علا قے ضلع خارا ن کا شمار بلو چستان کے قدیم تر ین شہروں
میں ہو تا ہے ۔اس علا قے میں کئی قدیم آثار مو جود ہیں ۔جنہیں دیکھنے کے
لئے سیاحوں کی بڑی تعداد اس علا قے کا رخ کر تی ہے ۔ مگر ان آ ثاروں کی
حفاظت اور دیکھ بھا ل نہ ہونے کی وجہ سے سیاح مایو س ہیں ۔
ضلع خارا ن کا شمار بلو چستان کے قدیم تر ین شہروں میں ہو تا ہے ۔مو رخین
لکھتے ہیں کہ خاران ہز اروں سا ل پہلی آ تش پر ست حکمران کی ریا ست رہی ۔ آ
تش پر ستی کے بعد خاران پر نو شیروانی قابل نے حکمرا نی کی اور 5نوابوں کے
دور اقتدار چلے ،جن کے قلعے ،مقبرے اور دیگر قدیم عمارتیں آ ج بھی خاران
قلعہ آ ج سے تقریباً ڈیڑھ سو سا ل پہلے نواب نوروز خان نے اپنے دور اقتدار
میں بنوا یاتھا ۔ قلعہ کے آ ثار دیکھنے کے لئے سیاحوں کی بڑی تعداد اس علا
قے کا رخ کر تی ہے،مگر سیاح ان آثار کی حفاظت اور دیکھ بھا ل نہ ہونے کی
وجہ سے مایوس ہیں۔
اس موقع پر ایک نوجوان سیاح نے کہا جامع مسجد خاران بھی قدیم عمارات میں سے
ایک ہے جو نواب حبیب اللہ خان نوشیروانی نے 100سا ل پہلے اپنے دور اقتدار
میں بنا ئی ۔یہ مسجد آ ج بھی اپنی پرا نی حا لت میں مو جو د ہے ۔ اس مسجد
میں روز انہ سینکڑ وں بچے قرآن پا ک کی تعلیم حاصل کر نے آ تے ہیں ۔