ڈیرہ اسماعیل خان،ضلعی انتظامیہ کا تجاوزات کے خلاف آپریشن
ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے زنانہ ہسپتال روڈ پر قائم
مبینہ غیر قانونی رینٹ اے کار مراکز اور تھڑا ہوٹلوں کے خلاف آپریشن کیا
گیا, دوران آپریشن ان ہوٹلوں اور پتھاروں کے مالکان کی جانب سے شدید مزاحمت
دیکھنے میں آئی جس کے جواب میں انتظامیہ کی جانب سے سخت رد عمل دیکھنے میں
آیا اور پولیس نے کئی افراد کو گرفتار کرتے ہوئے متعلقہ تھانہ منتقل کر
دیا، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ عبدالغفور بیگ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر ڈیرہ کیپٹن
(ر) زبیر نیازی کی سربراہی میں کئے جانے والے اس آپریشن میں ڈسٹرکٹ ہیڈ
کوارٹر ہسپتال ڈیرہ کے ڈائریکٹر کریم شاہ اور ہسپتال انتظامیہ کے دیگر
اہلکار بھی موجود تھے جبکہ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔
آپریشن کے شروع میں متاثرہ افراد کی جانب سے انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے
خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی جبکہ کچھ افراد نے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی
کرنے کی کوشش بھی کی تاہم پولیس کی جانب سے ایسے افراد کو فوری طور پر
حراست میں لے لیا۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر
ڈیرہ نے کہاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہر اس مقام پر آپریشن کیا جائے گا کہ
جہاں سرکاری املاک پر غیر قانونی قابضین موجود ہیں، تجاوزات کے خلاف یہ
آپریشن محرم الحرام سے قبل شروع کیا گیا تھا لیکن عاشورہ محرم کی وجہ سے
آپریشن تعطل کا شکار رہا۔
زبیر نیازی نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا یہ آپریشن اس وقت
تک جاری رہے گا کہ جب تک شہر میں ان تجاوزات کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
دوسری جانب ایسے آپریشن کا نشانہ بننے والے افراد مسلسل یہ دہائی دیتے ہیں
کہ وہ اپنے ان کاروباری مراکز کے عوض تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کو مقررہ
فیس ادا کرتے ہیں اور اسکے لئے انہوں نے خصوصی اجازت نامہ بھی حاصل کیا
ہوتا ہے۔
متاثرین کے موقف اوران کے پاس دستاویزی ثبوت بھی موجودگی کو مدنظر رکھتے
ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے تجاوزات کے خلاف اس آپریشن کے ساتھ ، ان متعلقہ
سرکاری افسران یا اہلکاروں کے خلاف کاروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جاتی کہ
جو انتظامیہ کی جانب سے غیرقانونی قرار دئیے جانے والے ان مراکز کے مالکان
سے ماہانہ فیس کے نام پر بھتہ وصول کرتے رہتے ہیں اور یا پھر جنہوں نے اس
مبینہ غیر قانونی قابضین کو اجازت نامے فراہم کئے ہوتے ہیں۔