چترال،22 سالہ نوجوان صدیق احمد کے دونوں گردے فیل،حکومت سے مدد کی اپیل
ٹوٹے پھوٹے برتن، پھٹے پرانے کپڑے، خستہ حال در ودیوار اور باورچی حانہ میں
دھویں سے کالے سامان یہ ہے ۲۲ سالہ صدیق احمد کے گھر کا کل اثاثہ،چترال کے
مضافاتی علاقے بکر آباد کے رہائشی بایئس سالہ صدیق احمد ولد محمد رفیق
نہایت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے، غربت کی وجہ سے نہایت کم عمر میں محنت
مزدوری کی عرض سے سعودی عرب چلا گیا، صدیق احمد خود کو موٹا کرنے کیلئے
گاؤں کے دکانوں سے موٹاپے کی گولیاں کھا تا تھا جس کی وجہ سے ان کی گردے
حراب ہونے لگے،سعودی عرب جاکر مزید صحت ہوئی، واپس آیا جو توپشاور کے محتلف
ہسپتالوں کے علاوہ الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال سے علاج کروایا، ان کا کہنا ہے
کہ ان کے والدمزدور آدمی ہیں جو پتھروں کی دیواریں بناکر اپنا گزارہ کرتے
ہیں، انہوں نے گھر کا سارا جمع پونجی بیچ کر صدیق احمد کا علاج کروایا۔
لیبارٹری ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ اس کے دونوں گردے کام چھوڑ چکے ہیں۔
ڈاکٹروں نے صدیق احمد کو گردوں کو پیوند کاری کیلئے کراچی کے آغا خان
ہسپتال ریفر کیا، جہاں ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے علاج کیلئے 2700000
ستائیس لاکھ روپے خرچہ آتا ہے جو اس کی بس سے باہر ہے۔
صدیق احمد کی بہن نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
کہ وہ اپنے بھائی کی ڈولی سجانا چاہتی ہے مگر وہ بستر مرگ پر پڑا ہے اور اس
کا ارمان پورا نہیں لگتا،اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ ہماری مدد کرے۔
صدیق احمد نے کہاکہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں غربت کی وجہ سے نہایت کم
عمر میں محنت مزدوری کی غرض سے سعودی عرب چلا گیاوہاں بھی مجھ پر قرض چڑھ
گیا جو ابھی تک اتارا نہیں جا سکا ہے۔
قریبی رشتہ دار قاری فضل حق نے کہا کہ صدیق احمد کا باپ نہایت غریب آدمی ہے
جس کی کبھی مزدوری لگتی ہے اور کبھی نہیں بھی لگتی ، اس نے زمین اور گھر
کا سامان بیچ کر صدیق کا علاج کروایا مگر اب 27 لاکھ روپے وہ کہاں سے لائے۔
صدیق کے چھوٹا بھائی کا کہنا ہے ہم بہت غریب لوگ ہیں صدیق احمد نے ان کی
تعلیم اور گھر کے اخراجات کیلئے ملک سے باہر جاکر مزدوری کرنا چاہا مگر اس
کے دونوں گردے فیل ہوچکے ہیں اور اب وہ بستر پر پڑا ہے۔
صدیق احمد کے اہلخانہ نے حکومت پاکستان، وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور
مخیرحضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی مالی امداد کرے تاکہ صدیق احمد کا 27
لاکھ روپے کی لاگت سے گردوں کی پیوند کاری کی جائے اور اس کی زندگی بچ سکے۔