کراچی،یوم سیاہ کے موقع پر ریلی، وزیر اعلیٰ سندھ کی شرکت
دنیا بھر میں کشمیری عوام آج بھارت کے غاصبانہ قبضے کیخلاف یوم سیاہ منا
رہے ہیں ,ستائیس اکتوبر 1947کو وادی جموں وکشمیر پر بھارتی فوج کے
غیرقانونی تسلط اور وحشیانہ درندگی کے خلاف ہر سال دنیا بھر میں کشمیری یوم
سیاہ مناتے ہیں۔
کراچی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بلیک ڈے واک کا انعقاد کیا گیا
جس میں وزیراعلیٰ سندھ، ڈپٹی اسپیکرشہلا رضا سمیت ارکان سندھ اسمبلی نے
شرکت کی،ریلی میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اس موقع پر شرکا کی جانب
سے بھارت کے خلاف بھر پور نعرے بازی کی گئی۔
اس موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ
سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے اور بنے گا،ملک کا
ایک ایک فرد پاکستان کو مستحکم بنانے کے لئے تیار ہے،قائد اعظم کے بعد
ذوالفقار علی بھٹو پہلے لیڈر تھے جنہوں نے کشمیر کے مسئلے پر آوا
اٹھائی،موجودہ حکومت کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتاحکومت کے معاملات شکوک و
شبہات کو جنم دے رہے ہیں ۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لعل شہباز قلندر کی
درگاہ کے دروازے بند کرنے کا ڈراما کیا گیا، تحریک انصاف کا سیہون کا
پروگرام طےشدہ نہیں تھا، عمران خان کی بدقسمتی ہے کے مزار میں نہیں پہنچ
پائے۔
مراد علی شاہ تحریک انصاف پر برہم ہو گئے اور شاہ محمود قریشی کو آڑے
ہاتھوں لیا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی پہلے عزت کرتا تھا
لیکن اب نہیں، شاہ محمود قریشی کے بھائی نے بتا دیا کہ وہ خود مزار کو
بیچتے ہیں جب کہ دروازے اگر بند کیے گئے تھے تو شاہ محمود قریشی چھلانگ لگا
کر گئے تھے کیا جب کہ مزار میں اسلحہ بردار لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں
دی گی۔