اسلام آباد،ہمیں نئی امریکی پالیسی پر اختلاف رائے ہے،خواجہ آصف
وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آج افغانستان میں حکومت اختلافات کا
شکار ہے، ہمسایہ ملک میں منشیات کی پیداوار اور لاقانونیت عروج پرہے،
اوروہاں حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا، دہشت گردوں
کے پناہ گاہوں کے بارے اقدامات افغانستان کوخود کرنا ہے تاہم امریکا کا
پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا قطعی غلط ہے۔
اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں پاک امریکا ٹریک ٹومذاکرات کے چوتھے اجلاس کا
انعقاد کیا گیا اجلاس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ،امریکی
سفیرڈیوڈہیل،سابق سفارتکاروں بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعدذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے وزیر خارجہ خواجہ
آصف نے کہا ہے کہ خطے میں صورتحال پیچیدہ ہے،پاکستان کے امریکا کے ساتھ
طویل المدت تعلقات رہے ہیں،ہمیں نئی امریکی پالیسی پر اختلاف رائے ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان چاہتے ہیں،ایک
تقسیم شدہ معاشرہ مفاہمتی عمل کو مشکل بنا رہا ہے، افغانستان دہشت گردی کے
سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے، افغانستان کی ساری معیشت اور ڈرگ ٹریڈ کی
وجہ سے پریشرگروپس چاہتے ہیں یہ جنگ جاری رہے جب کہ افغان مہاجرین کے بارے
میں امریکا کی الزام تراشی قابل قبول نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ا مریکہ کہتا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے
سے امریکہ وہاں کی کمزور عیشت کو جواز بناتا ہے تاہم یہ ہمارا مسئلہ نہیں
ہے،امریکی کئی کھرب ڈالر افگان جنگ پر لگا چکا ہے تو انکی معیشت کے لئے چند
ارب اور لگا سکتا ہے۔