کوئٹہ،ڈی آئی جی حامد شکیل پر ہونے والا حملہ خود کش تھا،پولیس حکام
کوئٹہ میں چمن ہاؤسنگ سکیم ائرپورٹ روڈ پر پولیس گاڑی کے قریب دھماکے میں
ڈی آئی جی حامد شکیل درانی اور 2پولیس اہلکار شہید ہوگئے جکبہ اہلکاروں
سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے ۔
ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے عملے کو فوری پہنچنے کی ہدایت کر دی,
زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا, قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور
سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ
تفتیشی ٹیموں نے جائے وقعہ سے شواہد اکٹھا کرنا شروع کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے ڈی آئی جی حامد شکیل درانی کی گاڑی کو نشانہ
بنانے کی کوشش کی, دھماکے سے ایس ایس پی کی گاڑی کے علاوہ 3 گاڑیوں کوبھی
نقصان پہنچا,پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا ایئرپورٹ روڈ پر زیرتعمیر عمارت
کے قریب ہوا۔
اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی
آپریشنز نصیب اللہ نے کہاکہ شہید حامد شکیل کو گھر سے دفتر جاتے ہوئے نشانہ
بنایا ،حملہ خود کش تھا جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ حامد شکیل اس سے قبل ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز، ایکٹنگ ڈی آئی
جی انویسٹیگیشن اور اے آئی جی آپریشن کے عہدوں کے علاوہ بلوچستان پولیس کے
دیگر کئی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں،بلوچستان کے گورنر محمود خان
اچکزئی اور وزیر اعلیٰ نواب ثنائاللہ زہری نے دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت
کی ہے،وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے آگے اپنے سر نہیں
جھکائے گی اور واقعے کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔