سبی،لکڑیوں کا تراش کر مجسمے بنانے والا ماہر مجسمہ ساز
سرسبز کھیتوں میں گھرا سبی کا گاؤں لونی جہاں درختوں کے سائے تلے بیٹھا
حبیب اللہ لکڑی کی تراش خراش میں مصروف ہے ،یہ ہنر مندلکڑی کے بے جا ن
ٹکڑوں کو اپنے خیالا ت اورتصورات کی شکل دیتا ہے مجسمہ سازمجسموں کو اس
مہارت سے تراشتا ہے کہ دیکھنے والے دیکھنے رہ جائیں۔
خداداد صلاحیتوں کا مالک حبیب اللہ ایک چرواہا ہے ،جو آرٹ کی دنیا میں اپنا
مقام بنا نے کا خواہش مند ہے ،مگر غربت کی ز نجیر اس کے قدموں کو آ گے
بڑھنے سے روک رہی ہے۔
حبیب اللہ نے دیار اور شیشم کی لکڑی پر کئی فن پارے تراش رکھیں ہیں ،مگراس
کے فن پاروں کے قدر دان نہ ہو نے کی وجہ سے اس ہنر کو خیر آ باد کر نا
چاہتا ہے ،2007میں اس فن کا آغاز کر نے والے خدا داد صلا حیت کے مالک حبیب
اللہ کا بنا یا گیا لکڑاا کا مجسمہ لندن تک فروخت ہوچکا ہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حبیب اللہ نے کہا کہ بچپن
سے میری ڈرائنگ اچھی تھی ،کراچی میں اس کام کو دیکھنے کا اتفاق ہوااور جب
سے یہ کام کر رہا ہوں ،اگر حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتواس کام کو آگے لے کر
جا سکتے ہیں اس سے ہمارا بھی نام ہوگا اور بلوچستان اور پاکستان کا بھی
دنیا بھر میں نام ہوگا۔
حبیب اللہ نے کہا میرے یہ جو اوزار ہیں یہ بھی کسی کے پھینکے ہو ئے ہیں
میرے پاس ہنر ہے مگر نہ نو کری ہے اور نہ ہی وسائل جو میں اس ہنر کو آ گے
لے جا سکوں۔