کراچی،لیڈی ہیلتھ ورکرز کا مطالبات کے حق میں احتجاج
تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے بھرپور احتجاج کیا
گیا تاہم مظاہرین اور حکومت سندھ کےدرمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد
ہیلتھ ورکرز نے احتجاج ختم کردیا۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز نےتنخواہوں کی عدم ادائیگی پرشدید احتجاج کیا، اس دوران
ورکرز نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والی پولو گراؤنڈ کی سڑک پر دھرنا دیےرکھا ۔
اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کےباعث پولو
گراؤنڈ سے پی آئی ڈی سی جانے والی سڑک کو بند کرکے پولیس کی بھاری نفری
تعینات کی گئی جب کہ سڑک بند ہونے سے شاہین کمپلیکس اور اطراف کی سڑکوں پر
ٹریفک متاثر ہوا ۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز کا مؤقف ہے انہیں 5 ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی
ہیں، احتجاج کی وجہ سے سندھ حکومت نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سے فوری مذاکرات
کیے۔
وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر صحت نے لیڈی ہیلتھ ورکرز سے مذاکرات میں انہیں
تنخواہوں کی ادائیگی اور سروس اسٹرکچر سمیت دیگر مطالبات پورے کرنے کی یقین
دہانی کرائی جس کے بعد انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا،لیڈی
ہیلتھ ورکرز نے کامیاب مذاکرات کےبعد پولیو مہم کےبائیکاٹ کا اعلان بھی
واپس لے لیاہے۔
ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرے میں شریک خاتون
عالیہ نگہت نے کہا کہ ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں ہے تاہم 5 ماہ سے
تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے تنگ ہوکر احتجاج کر رہے ہیں۔
منور عظیم نے کہا کہ 5 مہینوں سے کچھ نہی ملا ہے جبکہ گھریلو مسائل بھی بہت زیادہ ہیں۔
چیئرپرسن آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن بشریٰ آرائیں نے ذرائع
ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے تنخواہوں
کی دائیگی کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ دیگر مسائل کے حل کی بھی سندھ حکومت
نے یقین دہانی کرائی ہے جس پر ہم اپنا احتجاج ختم کر رہے ہیں۔