اسلام آباد ختم نبوت کے قانون کو پہلے سے زیادہ سخت کردیا ہے،احسن اقبال
اسلام آباد میں پی آئی ڈی میں وزیر، خارجہ احسن اقبال نے دھرنے کے شرکاءِ
سے ختمِ نبوت کے قانون کے حوالے سے مکمل بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک
میں جو بھی وزیر منتخب کیا جاتا ہے وہ ختم نبوت پر یقین رکھتا ہے تو
سربراہ یا وزیر بنایا جاتا ہے اگر وہ یقین نہ رکھتا ہو تا وہ مسلمان کہلانے
کا حقدار نہیں ہے۔
پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں دھرنے والے لوگوں کے جزبات بھڑکا رہے ہیں، ہم
نے اور وزیرِ قانون نے جو قانون بنا یا ہے وہ موثر ہے اب کوئی جواز نہیں
بنتا کہ دھرنے کو جاری رکھا جائے ، اگر انہیںیہ غلط فہمی ہے کہ قانون میں
کسی قسم کی کوئی نرمی یا گنجائش رکھی گئی ہے تویہ حقائق کے خلاف ہے،اس
دھرنے کی آڑ میں اگر کوئی جماعت اپنا لاؤج بنانا چاہتی ہے تو وہ ہمیں بتائے
، مگر اس طرح عوام کے جزبات سے نہ کھیلے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیرِ قانون اور دیگر وزراءِ سے کل علماءِ کرام کے
وفد نے ملاقات کی ہم نے ان کو ختم نبوت کے قانون کے حوالے سے مطمئن
کیا،انہوں نے کہا کہ ختمِ نبوت کے معاملے میں ہم خود حساس ہیں اس معاملے
میں ہم خود بھی کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتے ہمیں معلوم ہے یہ ملک کے لئے
ٹھیک نہیں ہے،ہم سمجھ رہے ہیں یہ سب ملک دشمن عناصر کی چال ہے جو پاکستان
کی عوام کو آپس میں لڑواکرہمارے ملک کا امن خراب کر نا چاہتے ہیں ۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ہم جس نبی کی امت میں سے ہیں ہمیں نبی کی
تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے راستے سے رکاوٹیں ختم کرنی چاہیءں، اس وقت کوئی
اپنے روزگار کیلئے جارہاہوتا ہے ، کوئی مریض ہسپتال جانا چاہتا ہے، کوئی
تعلیم کی غرض سے جارہا ہے ،سب ضرورت مند ہیں جو کسی نہ کسی کام سے اپنے
اپنے گھروں سے نکلے ہوئے ہیں ، مگر دھرنا ان کی رہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے ختمِ نبوت کے حوالے سے بہترین
کار نامہ انجام دیا ہے ،ایسا قانون پاس کر دیا ہے جس میں اب کوئی سقم نہیں
چھوڑا ، 2002 سے اس قانون میں جو گنجائش و سقم تھا اس کو بھی دور کردیا گیا
ہے ، لہٰذا اب کسی جھگڑے یا احتجاج کا جواز ہی نہیں بنتا ، میں شرکائے
دھرنے سے اپیل کر تا ہوں کہ آج اس دھرنے کو ختم کریں تاکہ کل پیر سے
معاملاتِ زندگی باقاعدہ طور پر بحال ہوجائیں۔