کوئٹہ، سی پیک کا منصوبہ نا صرف گوادر اور بلوچستان بلکہ پاکستان کے تمام
صوبوں کے لیے ترقی و خوشحالی کے عظیم دور کی نوید لے کر آیا ہے،وزیر اعلیٰ
بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ سی پیک کا منصوبہ
نا صرف گوادر اور بلوچستان بلکہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لیے ترقی و
خوشحالی کے عظیم دور کی نوید لے کر آیا ہے۔ ہم اس منصوبے کی راہ میں حائل
تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپنے جوانوں کے خون کا
نذرانہ دے کر اس پودے کی آبیاری کر رہے ہیں۔
ایسٹ بے ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیاتقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواب ثنا اللہ زہری نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا کہ
15 ارب روپے کی خطیر لاگت کا یہ منصوبہ گوادر بندرگاہ کو کوسٹل ہائی وے سے
منسلک کرے گا،19کلومیٹر طویل اس ایکسپریس وے کی تکمیل سے ہر قسم کی ٹریفک
کو گوادر بندرگاہ تک آسان رسائی ملے گی۔ سی پیک میں شامل گوادر کے جن
منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے، ان کی تکمیل سے گوادر مستقبل میں صنعتی
اور تجارتی حوالے سے ایک جدید پورٹ سٹی بن جائے گا، انہوں نے کہا کہ سی
پیک منصوبے میں گوادر کو کلیدی اہمیت حاصل ہے اپنے گہرے پانی کی بندرگاہ کے
باعث گوادر خطے کی تمام بندرگاہوں میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے ابتدائی منصوبے اپنی
تکمیل کے اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، پاکستان اور چین کا یہ طویل
المدتی منصوبہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو نئی جہت سے روشناس کرائے گا اور
سماجی رابطوں کو بھی وسعت اور نئی بلندی ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر
مکمل کرتے ہوئے اسے راہداری کے دیگر روٹس کے ساتھ فعال کرنے کی ضرورت
ہے،اقتصادری راہداری کو صرف گزرگاہ کی سہولت کے طور پر نہیں لینا چاہیے،
بلکہ بلوچستان میں صنعتی زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کے قیام کے ذریعے
صوبے کے قدرتی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو راہداری
کے ساتھ منسلک کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
ثنا اللہ زہری نے کہا کہ بلوچستان کی 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی
ہے جن کا ذریعہ معاش زراعت اور مالداری سے وابستہ ہے ان دونوں شعبوں کی
ترقی سے بلوچستان کے عوام کو بہتر روزگار مل سکتا ہے،اقتصادی راہداری کا
مغربی روٹ بلوچستان کے 10 سے 12 ضلعی ہیڈکوارٹروں سے گزرے گا جو صوبے کے
بڑے پیداواری مراکز بنیں گے اگر ان شہروں کو صحیح معنوں میں ترقی دی جائے
تو اس سے بہتر معاشی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گوادر کو اس وقت پانی کی کمی کے سنگین مسئلے کا سامنا
ہے، صوبائی حکومت اپنے وسائل سے اس مسئلے کو عارضی بنیادوں پر حل کرنے کی
بھرپور کوشش کر رہی ہے تاہم مسئلے کے دیرپا حل کے لیے مزید وسائل کی ضرورت
ہے۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین
سینیٹ و اسمبلی، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ ، سول و
عسکری حکام، معتبرین، اعلیٰ چینی حکام اور لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود
تھی۔