کوئٹہ،خاران کی قالین بافی کی صنعت مشکلات کا شکار
بلو چستان کے ضلع خاران میں 1982میں قا لین بافی کا ہنر سیکھا نے کےلئے قا
ئم کیا گیا ادارہ بد حالی کا شکار ہے جبکہ محکمے کی جانب سے قا لین بافی کا
ہنر سیکھنے والے ہنر مندوں کے پاس مشینیں اور متعلقہ محکموں میں ملاز مت
نہ ہو نے کی وجہ سے وہ روزگا ر کمانے سے محروم ہیں ۔
محکمہ صنعت و حرفت کی خستہ حال یہ عمارت خاران میں واقع ہے جہاں بچوں کو قا
لین بافی کا ہنر سیکھا یا جاتا ہے ، 35سال قبل تعمیر کی گئی اس عمارت میں
دراڑیں پڑ رہی ہیں، مشینیں زنگ آ لود، کھڑکیاں اورفرنیچر ٹو ٹ پھوٹ کا شکار
ہے۔
بو سید ہ حال اس عمارت میں بچے جن بینچ پر بیٹھ کر قا لین بافی کا ہنر
سیکھتے ہیں ان بینچوں کو بھی پتھروں کا سہارا دیا گیا ہے ۔۔بچوں کے بنا ئے
گئے قالین محکمے کی جانب سے مہنگے داموں فروخت کئے جاتے ہیں۔
محکمے کے ایک اہلکار نے بتا یا کہ یہاں سے فارغ ہو نے والے بچوں کو حکومت
کی جانب سے سہولیات فرا ہم نہ کر نے کی وجہ سے قا لین بافی کا ہنر سیکھنے
والوں کی تعداد میں کمی ہو تی جا رہی ہے۔تین سال میں یہ بچے نہایت دیدہ ز
یب قا لین بنا نے کے قا بل ہو جاتے ہیں۔۔ سیکھنے کے عمل کے دوران بچوں کو
ماہانہ دو ہز ار روپے وظیفہ بھی دیاجاتا ہے جو انتہا ئی کم ہے۔بچوں کی بنا
ئی گئیں قا لینیں 14ہزار سے ڈیڑھ لا کھ روپے میں فروخت ہو تی ہیں۔