اسلام آباد،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کااجلاس
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں
اہم فیصلےکیے گئے،پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلی اجلاس میں
شریک تھے۔
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق سی سی آئی کو15 لاکھ
میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
ترجمان کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے تعلیمی معیار کے متعلق نیشنل ٹاسک
فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ٹاسک فورس نصاب سمیت یکساں تعلیمی نظام پر
سفارشات پیش کرے گی۔
سی سی آئی اعلامیے کے مطابق گیس فیلڈ کے پانچ کلومیٹر کی حدود میں گاؤں
اور آبادیوں کو گیس فراہمی کے اخراجات متعلقہ کمپنیاں برداشت کریں
گی،بلوچستان میں قریبی تحصیل یا ضلع میں گیس فراہمی کو یقینی بنایا
جائےگا،قومی واٹر پالیسی کی جائزہ کمیٹی بھی بن گئی۔
وزیرا علی سندھ نے سندھ میں پیدا ہونے والی گیس پر صوبے کا آئینی حق قبول
کرنے کامطالبہ کر دیا، وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین میں
متعلقہ صوبے کی ترجیح پہلے سے موجود معاہدوں اور پابندیوں پہ عمل درآمد سے
مشروط ہے،صوبوں کو بجلی کی پیداوار ،ڈسکوز میں بجلی کی تقسیم اور لوڈ
شیڈنگ کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ کا اختیار دیا جائے گا ،گیس کے شعبے میں بھی
اسی طرز پہ مانیٹرنگ کا اختیار ہوگا۔