Nov 28, 2017 07:10 pm
views : 494
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- PTI Leader Naeem ul Haq Media Talk
اسلام آباد ، نوازشریف ختم نبوت سے متعلق شق نکالنے سے آگاہ تھے، نعیم الحق
سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے
احتساب عدالت کی کورٹ ڈائری اور اس وقت کے چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ
کار طلب کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور
جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل بینچ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی سماعت کررہا
ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حدیبیہ ریفرنس کی
دستاویزات کدھر ہیں جس پر خصوصی پراسیکیوٹر نیب عمران الحق نے کہا کہ ہائی
کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر ریفرنس خارج کیا تاہم عدالت کہے تو ریفرنس کی
دستاویزات فائل کردیتے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے
ریمارکس دیے کہ کیس میں سنجیدگی دکھائیں، سپریم کورٹ نے خاص بینچ بنایاہے،
کیا نیب ابھی بھی دباؤ میں ہے۔ وکیل نیب نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے ایساہی
ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11دسمبر تک ملتوی کردی۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےپاکستان تحریک انصاف کے رہنما
نعیم الحق نے کہا کہ حکومت کام کرنے کے قابل نہیں رہی ہے، وزرا فرائض سے
غفلت برت رہے ہیں، جاتی امرا اور پنجاب ہاؤس کا چکر لگارہے ہیں، اس وقت
وزرا کی ساری توجہ معزول وزیراعظم نواز شریف کو خوش کرنے میں ہے جسے قوم
دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ میں دراڑیں پیدا ہوچکی ہیں اور انتشار موجود ہے، اس کے چند ایم این ایز اور ایم پی ایز نے استعفیٰ دیدیا ہے۔
نعیم الحق کا کہنا تھا کہ جس معاہدے کے تحت دھرنا ختم ہوا اگر اس میں آرمی
چیف اثر انداز نہیں ہوتے تو حکومت خود ہمت ہار بیٹھی تھی، حکومت نے دھرنا
ختم کرانے کے لیے کوئی بامعنی کوشش نہیں کی، وزرا 21 دن تک سوچ بولنے سے
گریز کررہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ جب ختم نبوت والی شق نکالی گئی اس سے
نوازشریف مکمل آگاہ تھے جب کہ اس پر راجا ظفرالحق کی رپورٹ تیارہے تو 30
دن کا وقت کیوں؟