Nov 30, 2017 04:57 pm
views : 641
Location : Islamia College
Peshawar- Students Protest Against Fees Hike and Harassment
پشاور،فیسوں کے اضافے کے خلاف طلبا کا احتجاج
پشاور یونیورسٹی کے طلبا اور مختلف طلبا تنظیموں کایونیورسٹی میں تیسرے روز
بھی احتجاجی مظاہرہ جاری رہا،طلبا نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے
جن پر انکے مطالبات درج ےتھے،طلبا کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف
شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔
طلباکا مطالبہ ہےکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ٹیوشن اور داخلہ فیسوں
میں کیا جانے والا دس فیصد اضا فہ واپس لیا جائےجبکہ مستحق طلباء کو
اسکالرشپ کیساتھ ہاسٹل اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں،طلباء کا کہنا
ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہر سال ٹیوشن اورداخلہ فیسوں میں دس
فیصد اضافہ کیا جارہا ہے جس سے غریب طلباء کا مستقبل داؤ پر لگاہواہے اسلئے
مستحق طلباء کو سکالرزشپ ،ہاسٹل،ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات فراہم کی
جائیں،طلباء کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بی اے اور ایم اے پروگرامز کے خاتمے کا
فیصلہ واپس لیا جائے اور ایم ایس اور پی ایچ ڈی سکالرزکے لیے ریسرچ گرانٹ
دوبارہ شروع کیا جائے۔
احتجاجی طلبا نے یونیورسٹئ انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی میں
طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کیاجاتا ہےاسلئے طالبات کے تحفظ کیلئےٹھوس
اقداما ت کئے جائیں۔
طلباء کا کہنا ہےکہ اگر انکے مطالبات کومنظور نہیں کیا گیا تو وہ بھوک
ہڑتال کیمپ لگاکر احتجاج جاری رکھیں گے اور یونیورسٹی میں ہونیوالے والے
اساتذہ کے انتخابات کو بھی ہونے نہیں دینگے،طلباء نے مطالبات کی عدم منظوری
تک احتجاج ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک طالب علم اسد علی نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ فیسوں میں اضافے کو کم کرے۔
ایک اور طالب علم یاسر خان نے کہا کہ میں دو مہینوں سے یونیورسٹی سے باہر
رہ رہا ہوں،یونیورسٹی انتظامیہ ایسے اقدامات کرے جس سے طالب علموں کو ریلیف
حاصل ہو۔