کراچی ، سندھ رینجرز کی لیاقت آباد میں کامیاب کارروائی ، غیرقانونی اسلحہ کی خرید و فروخت میں سرگرم گروہ گرفتار
پاکستان رینجرز سندھ کو با وثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ لیاقت آباد کے علاقہ
میں ایک گروہ جعلی اسلحہ لائسنس بنانے اور غیرقانونی اسلحہ کی خرید و
فروخت میں سرگرم ہے۔ اس گروہ نے گذشتہ چند سالوں سے لاکھوں روپے کے عوض
جعلی اسلحہ لائسنس بنانے کاکاروبار شروع کر رکھا تھا۔اِن معلومات کی بنا ء
پر پاکستان رینجرز سندھ نے کاروائی کر تے ہوئے گروہ کے ایک اہم کارندے
فیضان خان کو ناجائز ہتھیاروں اور 5 عدد جعلی اسلحہ لائسنسوں کے ساتھ لیاقت
آباد سیگرفتار کیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ ایک منظم
گروہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہے۔ تفتیش کی روشنی میں پاکستان رینجرز
سندھ اور سندھ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گروہ کے مزیدسات کارندوں کو
گرفتار کرلیاجن میں سندھ ریزرو پولیس میں تعینات اسسٹنٹ سب انسپکٹر عمر
دراز خان، حوالدار سید نادرعلی شاہ اور اسپیشل برانچ میں تعینات حوالدار
سید شاہد علی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ جنید ، زوہیر کمال، صدام صدیقی اور
سیاسی جماعت کے عسکری ونگ کا ٹارگٹ کلر کامران پریڈی جو کہ متعدد بار جیل
کاٹنے کے بعد بھی کئی خودکارہتھیار حوالدار نادر شاہ کو فروخت کرنے میں
ملوث ہے۔
ترجمان کے مطابق حوالدار نادر شاہ جعلی لائسنسوں پر اسلحہ خیبر پختونخواہ
سے بذریعہ ہوائی سفر منتقل کر تا تھا اور اس سلسلے میں 30/35 مر تبہ ہوائی
سفر کر چکا ہے۔ ملزمان کے قبضے سے بر آمدشدہ سامان میں 9 عدد مختلف اقسام
کے ہتھیار بشمول 2 عدد رائفل جی3،18 عدد مختلف ہتھیاروں کے میگزین،مختلف
اقسام کے سینکڑوں راؤنڈز اورجعلی دستاویزات میں140 عدد جعلی اسلحہ لائسنس
بشمول کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس بمعہ نادرا فارم،233 عدد مختلف اقسام کے
جعلی ڈاکومنٹس،میٹرک ،انٹر میڈیٹ اور گریجویشن کی 75عدد جعلی ڈگریاں
اور7عدد جعلی ڈرائیونگ لائسنس شامل ہیں ۔
علاوہ ازیں سیکڑوں گورنمنٹ اداروں کی جعلی مہریں وغیرہ بھی برآمد ہوئیں ہیں
جن میں 131 عدد جعلی مہریں بشمول ڈپٹی کمشنر زکراچی، ٹھٹھہ،قمبر شہدادکوٹ،
جعفرآباد، لسبیلہ،نواب شاہ، کوئٹہ، مالاکنڈ، جیکب آباد اور وزارتِ خارجہ،
وزارتِ داخلہ، بینکس، یونیورسٹیز ، تعلیمی بورڈز، رینجرز اسپیشل ٹاسک
سیل،سینئر پولیس افسران سمیت دیگر کئی اعلیٰ افسران کی سرکاری مہریں بھی
شامل ہیں۔
ملزمان کی نشاندھی پرجعلی دستاویز ات کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان
بشمول کمپیوٹرز ،کلر پرنٹر ز ، کارڈ پرنٹنگ اینڈ کٹنگ مشین ، لیمینیشن
مشین، اسٹیشنری اورپرنٹنگ میٹریل بھی برآمد کر لیا گیا۔ یہ گروہ پچھلے دس
سال سے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث تھا اور دوران تفتیش ملزمان نے7000 سے
8000 جعلی اسلحہ لائسنس ،3500سے 4000 جعلی تعلیمی اسناد ، سیکڑوں ڈرائیونگ
لائسنس اور مختلف اداروں کے جعلی دستاوزت مختلف لوگوں کو بھاری رقوم کے عوض
فراہم کر نے کا اعتراف کیا۔
ترجمان سند ھ رینجرز کے مطابق اس کامیاب آپریشن پر ڈی جی رینجرز نے پاکستان
رینجرز سندھ اور سندھ پولیس کی ٹیم کو مبارکباد دی اور ان کی پیشہ وارانہ
صلاحیت اور ٹیم ورک کو سراہا ہے۔