کراچی ، گورنر سندھ محمد زبیر کی انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے جلسہ تقسیم اسناد 2017 میں شرکت
گورنر سندھ محمد زبیر نے انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے جلسہ تقسیم اسناد
2017 میں شرکت کی، معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمان ،آئی بی اے
کے ڈین اور ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کانوکیشن
میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 850 طالب علموں کو اسناد تفویض کی
گئیں۔
گورنر سندھ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اپنی مادر علمی میں آکر
بے حد مسرت محسوس کر رہے ہیں۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ تعلیم اور تربیت
کی فراہمی کے لحاظ سے آئی بی اے نہایت معتبر ادارہ ہے اور اس سے فارغ
التحصیل ہونے والے ہر شعبہ زندگی میں ملکی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں
کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ اپنی کارکردگی اور خدمات کے باعث آئی بی اے فخر
پاکستان کہلائے جانے کا مستحق ہے جبکہ انسٹیٹوٹ میں جدید دور کے مطابق
نصابی مواد کا استعمال لائق تحسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیم ہمارے تمام مسائل کا حل ہے کیونکہ اعلی تعلیم
کے بغیر کو ئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا اسی لئے اعلی تعلیم کا فروغ
حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ جامعات میں تحقیق کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے
معروف ماہر تعلیم اور استاد پروفیسر ڈاکٹر عظاالرحمان کو زبردست خراج تحسین
پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعہ ملک میں
اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے نمایاں خدمات انجام دیں۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ڈاکٹر عطا الرحمان کی خدمات کو ہر سطح پر خراج تحسین
پیش کرنا چاہئے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ سرکاری جامعات میں تحقیق کے فروغ کے
لئے کئے جانے والے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے آئی بی اے میں تعلیم
یافتہ فیکلٹی کو ترجیح دیئے جانے کو بھی سراہا اور کہا کہ اس کے ذریعے آئی
بی اے کے معیار کو مزید بلند کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والوں کو اپنی اپنی فیلڈ میں محنت اور لگن سے
کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی اے نے انہیں تعلیم کے ذریعے
کامیابی کا پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے جسے استعمال کرکے وہ اپنے متعلقہ شعبوں
میں نمایاں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
انہوں نے طالب علموں کے والدین اور اساتذہ کی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش
کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ نے میڈل حاصل کرنے والوں کے لئے گورنر ہاؤس
میں توصیفی تقریب منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ڈاکٹر عطا الرحمن نے اپنے خطاب میں سائنس و اختراع برائے سماجی و معاشی
ترقی کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن بھی دی۔ انہوں نے واضح کہا کہ سماجی و
معاشی ترقی کا انحصار اب محض قدرتی وسائل پر نہیں ہے اور دنیا کی معیشت کو
اب علم و آگہی کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
انہوں نے معیاری اعلیٰ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور مختلف شعبہ جات میں
اعلیٰ تعلیم کی فراہمی پر آئی بی اے کے کردار کو سراہا۔ ڈاکٹر فرخ اقبال نے
تین نئے شعبہ جات یعنی سوشل سائنسز اور لبرل آرٹس، اکا?نٹنگ اور فنانس اور
اکنامکس اور میتھمیٹکس کی شمولیت کے ذریعے آئی بی اے کی تدریسی گنجائش میں
توسیع کا ذکر کیا، جوگزشتہ پانچ سال کے دوران متعارف کروائے گئے۔.
ڈاکٹر فرخ نے بتایا کہ آئی بی اے کے کل وقتی اساتذہ کی تعداد 118ہے، جن میں
سے 65 پی ایچ ڈی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ آئی بی اے تحقیق پر
بھرپور توجہ دے رہا ہے اور گزشتہ سال اس کے اساتذہ کے لکھے گئے 14 پیپرز
بین الاقوامی معیار کے جرنلز میں شائع ہوئے جبکہ آٹھ سال قبل یہ تعداد محض 2
تھی۔ آئی بی اے کے ڈین نے ادارے میں تنوع کی بھی نشاندہی کی اور بتایا کہ
ہمارے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے پاکستان کے دور دراز پسماندہ علاقوں کے
طلباء4 کو داخلہ دیا جاتا ہے اور پورے 4 سال تک انہیں مفت تعلیم فراہم کی
جاتی ہے۔
تقریب میں گورنر سندھ اور پروفیسر عطا الرحمان نے نصابی سرگرمیوں میں
نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طالب علموں میں میڈلز ،شیلڈز اور کیش
ایوارڈز تقسیم کئے۔