کراچی،سانحہ حویلیاں،جنید جمشید کو ہم سے بچڑے ایک سال بیت گیا
سانحہ حویلیاں کو ایک برس بیت گیا اور اس سانحے نے 47 خاندانوں کو رلا دیا
جب کہ اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی یادیں ورثاء کے دلوں میں
آج بھی زندہ ہیں۔
گزشتہ سال 7 دسمبر کو جنید جمشید بھی قومی ائیرلائن پی کے 661 کی پرواز کے
ذریعے چترال سے واپس آرہے تھے کہ حویلیاں کے مقام پر طیارے کو حادثہ پیش
آیا جس کے نتیجے میں معروف مبلغ سمیت تمام 47 مسافر شہید ہوگئے تھے، جہاز
پھٹنے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت کا عمل ڈین این اے کے ذریعے کیا گیا تھا۔
بدقسمت طیارے میں سوار جنید جمشید کا یہ سفر 2016 کا آخری ثابت ہوا جس کے
بعد اُن کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی تاہم اُن کا انداز آج بھی
لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی مختار
احمد نے کہا کہ جنید جمشید میں قومی اور مذہبی جزبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا
تھا،یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں انہوں نے قومی نغمے گائے اور بعد میں جب وہ
مذہبی جاعت سے وابسطہ ہو گئے توانہوں نے مذہبی حوالے سے بہت کاوشیں پیش
کیں،اس وجہ سے جو نوجوان نسل دین اور اسلام سے بے بہرا تھی وہ اس جانب راغب
ہوئی،جنید جمشید نے ایک لشکر تیا ر کیا تھا نوجوان نسل کو راہ راست پر
لانے میں ، ان کی شہادت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ آسانی سے پر نہیں
ہوگا،ایسے لوگ بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ایک شہری نے کہا کہ جنید جمشید ایک
حادثہ کے نتیجے میں ہم سے جدا ہوئے ، وہ حادثہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم
اسلام کے لئے بھی بہت بڑا حادثہ تھا،ان کی نعتیں اور حمدیں نہ صرف ہم سنتے
ہیں بلکہ ہمیں ان کی یاد بھی آتی ہے ، میری دیا یہ ہے کہ اللہ تعالی اس
حادثہ میں شہید ہونے والے تمام افراد کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
سحافی اقبال سواتی نے کہا کہ میں ان کے لئے یہ کہوں گا کہ وہ ایک اچھے
انسان ہونے کے ساتھ ایک اچھے گلوکار بھی تھے، انہوں نے گلوکاری چھوڑ کر
تبلیغ کی طرف راغب ہوئے اور دین کا پرچار کیا،انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ
دوسرے ممالک میں بھی جاکر اسلام کی تبلیغ کی ، اللہ تعالی ان کو جنت
الفردوس میں جگہ عطافرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔