Jan 19, 2018 03:59 pm
views : 599
Location : CM Secretariat
Karachi- CM Sindh Syed Murad Ali Shah chairs meeting regarding Budget 2018
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت بجٹ حکمت عملی دستاویزات کی تیاری سے متعلق اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پینشن کے بڑھتے ہوئے بل پر محکمہ خزانہ
سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن اضلاع میں پینشن کی رقم زیادہ
ہوئی ہیں وہاں آڈٹ کرایا جائے اور پینشن کی رقم کا سسٹم مکمل کمپیوٹرائزڈ
بھی کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں 21-2018
تین سالہ بجٹ حکمت عملی دستاویزات کی تیاری کے متعلق اجلاسمنعقد ہوا،
اجلاس میں محکمہ خزانہ، پی اینڈ ڈی اور سندھ روینیو بورڈ کے اعلیٰ حکام نے
شرکت کی، اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کی تیار کردہ ممکنہ حکمت عملی بجٹ
دستاویزات پر بحث کیا گیا، اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت کے ترقیاتی
منصوبوں کے لیے اخراجات 16-2015 میں 137.3 بلین روپے، 17-2016 میں 210.1
بلین روپے اور 18-2017 میں 344.1 بلین روپے رہا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کومحکمہ روینیو نے بتایا کہ پچھلے تین سالوں میں
8.9 فیصد روینیو میں اضافہ ہوا ہے جبکہ آئندہ سال 14 فیصد اضافہ کا امکان
ہے، اعداد و شمار کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سال 16-2015 میں
650.9 بلین روپے، 17-2016 میں 692.9 بلین روپے اور سال 18-2017 میں 854.3
بلین روپے موصول ہوئے جبکہ وفاقی منتقلیوں کی مد میں سال 16-2015 میں 518
بلین روپے، 17-2016 میں 539.9 بلین روپے اور 18-2017 میں 654.6 بلین روپے،
سال 19-2018 میں 743.1 بلین روپے، سال 20-2019 میں 845.4 بلین روپے اور سال
21-2020 میں 933.4 بلین روپے کی ممکنہ وصولی متوقع ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کو
بتایا گیا کہ خدمات پر سیلز ٹیکس کی مد میں سال 16-2015 میں 61.5 بلین
روپے، 17-2016 میں 78.5 بلین روپے اور 18-2017 میں 100 بلین روپے کا ممکنہ
ہدف ہے۔
محکمہ خزانہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ پینشن کی رقم
سال 16-2015 میں 52.8 بلین روپے، 17-2016 میں 70 بلین روپے اور 18-2017 میں
76 بلین روپے رہی،جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے پینشن کے بڑھتے ہوئے بل پر
محکمہ خزانہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ جن اضلاع میں پینشن کی رقم
زیادہ ہوئی ہیں وہاں آڈٹ کرایا جائے اور پینشن کی رقم کا سسٹم مکمل
کمپیوٹرائزڈ بھی کیا جائے۔