Jan 22, 2018 12:00 am
views : 449
Location : Bab-e-Pakistan
Lahore- CM Punjab Shahbaz Sharif Inaugurates Bab-e-Pakistan
لاہور،وزیراعلیٰ پنجاب محمد نےباب پاکستان کی تعمیر نو کے منصوبے کا افتتاح کر دیا
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے والٹن روڈ پر باب پاکستان کی تعمیر نو
کے منصوبے کا افتتاح کر دیا،117ایکڑ اراضی پر مشتمل اس منصوبے پر چار ارب
روپے سے زائد لاگت آئے گی، منصوبے میں آڈیٹوریم، فوڈکورٹس، سپورٹس کمپلیکس
،آرٹ گیلری ، میوزیم ،جھیل او رکھیلوں کے میدان بنیں گے۔
وزیراعلی محمد شہبازشریف نے باب پاکستان کی تعمیر نو کے بعد افتتاحی تقریب
کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم باب پاکستان کے اس
تاریخی مقام پر کھڑے ہیں جہاں پر عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح ؒ او
ران کے کروڑوں ساتھیوں کی جدوجہدیاد آتی ہے اور قیام پاکستان کے وقت لاکھوں
لوگوں نے ہجرت کر کے اس جگہ پڑاؤکیا تھا،وہ لوگ خون کے دریا عبور کر کے
یہاں پہنچے تھے ۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ باب پاکستان کی تعمیر 20سال پہلے ہونا تھی،اب اس
کی حالت زار پر رونا آتا ہے ، 12اکتوبر1999 میں جنرل مشرف نے جمہوری حکومت
پر شب خون مارا تو اس کے بعد یہ منصوبہ اس وقت کی پنجاب حکومت کے حوالے
کیا گیا جنہوں نے اسے کرپشن کا قبرستان بنا دیا,ہم گزشتہ ساڑھے 9سال سے اس
حکومت کاگند صاف کر رہے ہیں اور آج اس منصوبے کی تعمیر نو کا آغاز کیا
گیاہے جس پر ساڑھے 4ارب روپے لاگت آئے گی او ریہ لاہو رکا عظیم الشان
منصوبہ بنے گا ،گریٹر اقبال پارک کی طرح اسے بھی بہت جلد مکمل کرینگے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ زرداری صاحب نے اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے
لوٹا ہے ، نیب تو ان سے پیسے نہیں نکلوا سکا لیکن ہم سوئس بینک کے علاوہ
دنیا کے کسی کونے میں بھی اگر بیواؤں اور یتیموں کی لوٹی دولت ہوئی تو عوام
کی ترقی او رخوشحالی کے لئے ان کے قدموں میں نچھاور کر دیں گے،عمران خان
جھوٹ بولنے سے فارغ ہوں تو کوئی کام کریں،مال روڈ پر ان لوگوں نے جتنی
گالیاں دیں شاید آسمان بھی پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ یہ پاکستان کے
لیڈران ہر بات پر گالی دیتے ہیں، گری ہوئی باتیں کرتے ہیں اور دشنام طرازی
کرتے ہیں،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں اہل لاہور کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں
نے مال روڈ پر مسخروں کے ناٹک کو مسترد کردیااور ان کے منہ پر زناٹے دار
تھپڑ رسید کر کے ہمارا مان رکھا ہے۔
شہباز شریف نے مزیدکہاکہ مجھ پر ایک نہیں ایک ہزار الزامات لگائیں لیکن اگر
ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو میں معافی مانگ کر گھر چلا جاؤں گا،اگر
کرپشن ثابت نہ ہوتو الزامات لگانے والوں کے بارے میں فیصلہ آپ کو خود کرنا
ہے ،این آئی سی ایل ، اوگرا، رینٹل پاو ر، نندی پور او ردیگر منصوبوں میں
اربوں روپے کی کرپشن کی گئی اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ،میں نیب سے
کہتا ہوں کہ کبھی زرداری صاحب کو بھی بلا لینا ، اس وقت انہیں صدارتی
استحقاق حاصل نہیں ہے ، لگتا ہے کہ نیب کو مجھ سے محبت ہے اور میں بھی اسے
مایوس نہیں کروں گا۔