لاہور، زینب کے قاتل عمران عرف مانا کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے معصوم زینب کے قاتل عمران عرف مانا کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
لاہور میں پولیس نے ملزم عمران کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شیخ
سجاد کے روبرو پیش کیا،اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
سماعت کے دوران پولیس حکام نے تفتیش سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے ملزم کے
15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، پولیس نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ
ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے اور پولی گرافک ٹیسٹ سے بھی اس کے بیان کی
تصدیق ہوئی ہے۔
عدالت کی جانب سے جسمانی ریمانڈ سے متعلق استفسار پر وکیل استغاثہ نے بتایا
کہ ملزم 7 دیگر بچیوں سے زیادتی میں بھی ملوث ہے اور اس کے لیے ہمیں اس کا
ڈی این اے بچیوں سے ملنے والے ڈی این اے سے میچ کرنا ہے،عدالت نے ملزم کے
15 روزہ ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسے 14 روز کے لیے پولیس کے
حوالے کردیا۔
معصوم زینب 4 جنوری2018 کو لاپتہ ہوئی، چھ روزبعد اس کی لاش شہباز روڈ پر
کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھی،قتل پر قصور بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے،
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شیل پھینکے اورفائرنگ
بھی کی جس کے نتیجے میں 2افراد جاں بحق اور کئی ایک زخمی ہوگئے،وزیر اعلیٰ
شہباز شریف نے واقعے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنا ئی، 600 سے زائد
افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے
بھی واقعےکا ازخود نوٹس لیا تھا۔